طالبان کو معاف کردینا چاہئے، فوجی آپریشن غیر شرعی ہے، مولوی برقعہ کا لال مسجد میں خطبہ

خطیب لال مسجد نے کہا ہے کہ ملک میں جاں بحق ہونیوالے تمام بچے ہمارے اپنے لخت جگر ہیں، طالبان سے جو غلطیاں ہوئیں انہیں بھی معاف کر دینا چاہیے، بتایا جائے کیا لال مسجد میں شہید ہونیوالے بچے نہیں تھے، فوجی آپریشن غیر شرعی ہے، اللہ سے دعا ہے کہ کہ طالبان فوج کو ایک کر دے، غیرشرعی اقدامات کے باعث طالبان بم باندھ کر حملے کر رہے ہیں، اسلامی نظام نافذ ہوجائے تو یہی طالبان بھارت پر حملہ آور ہونگے، جمعہ کے روز خطبہ جمعہ کے دوران مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ فوجی بچے بھی ہمارے ہی بچے ہیں، پاکستان میں جہاں بھی بچے کسی حادثے یا واقعہ میں جاں بحق ہوں وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو غلطیاں طالبان سے ہوئی ہیں انہیں معاف کردینا چاہیے اور جس طر ح طالبان کو کارروائیاں کرکے نقصان پہنچایا گیا ہے اسے بھی معاف کردینا چاہیے، تبھی حالات سدھر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ پشاور پر پوری قوم سوگوار ہیں، ہم سانحہ پشاور سمیت تمام واقعات کی مذمت کرتے ہیں، البتہ کمزور اور طاقت ور کی کارروائیوں کے حوالے سے فرق نہیں ہونا چاہیے۔ آج مسجد کے باہر احتجاج کیا جا رہا ہے، انتظامیہ کو اس صورتحال کو دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ماضی قریب میں لال مسجد کو چاروں طرف سے گھیرا گیا، فاسفورس بموں کا استعمال کیاگیا، کیا یہاں جاں بحق ہونیوالے بچے نہیں تھے؟، انہوں نے کہا کہ یہ آگ مشرف کی وجہ سے لگی اس کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے ایک مذہبی اور سیاسی رہنما کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگ طالبان کو جنگلی کتے کے الفاظ تک کہتے ہیں، ہمیں تہذیب کے دائرہ میں رہنا چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں طیاروں سے بمباری کی گئی اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں ہونیوالی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ انہوں نے طالبان کی کارروائیوں بارے کہاکہ غیر شرعی اقدامات کے باعث آج طالبان کو یہاں تک پہنچا دیا گیا کہ وہ بم باندھ کر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک میں اسلامی نظام رائج کردیا جائے تو وہ بم باندھ کر بھارت پر حملے کریں گے۔ انہوں نے فوجی آپریشن بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت جو آپریشن جاری ہے وہ غیرشرعی ہے اس معاملے پر چاہے بھارت، بنگلہ دیش سمیت جہاں سے بھی علمائے کرام بلائیں ہم اس معاملے پر دلائل دینگے۔








