جنرل قاسم سلیمانی ایک عالمی شناخت شدہ چہرہ اور دفاع مقدس کی ایک یادگار شخصیت ہیں،

25 اکتوبر, 2014 00:00

سپاہ پاسداران انقلاب ایران میں رہبر معظم کے نمائندہ اور مشیر اعلیٰ لیفٹیننٹ جنرل ید اللہ جوانی نے العالم سٹلائیٹ نیوز چینل کے تہران اسٹوڈیو میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سپاہ پاسداران کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی جن کی تصویر حال ہی میں کرد پیشمرگہ فورس کے ساتھ میڈیا میں دیکھی گئی ہے سے متعلق کہا کہ جنرل سلیمانی ایک عالمی شناخت شدہ چہرہ اور ایران کے دفاع مقدس کی ایک یادگار شخصیت ہیں جن کی کمانڈنگ میتھڈ دفاع مقدس کے جنگ کا طریقہ ہی ہے۔ اس دوران قاسم سلیمانی ،خرازی شہید، ہمت شہید اور باکری شہید جیسے کمانڈرز تھے جو جنگ کے دوران محاذ کے اندر ہوتے خاص کر ایرانی علاقوں کو آزاد کرانے کے سلسلے میں آپریشن کے دوران فرنٹ لائن پرموجود ہوتے تھے۔

جنرل جوانی نے تاکید کی کہ شام اور عراقی عوام کیلئے ہماری حمایت سچائی پر مبنی ہے، جب اس میدان میں کوئی مدد اور حمایت بہم پہنچا دیتا ہے اور مشورہ دیتا ہے تو لازم ہے میدان میں فرنٹ لائن پر اسے رہنا ہوگا۔ یہ بات بھی انکے اندر خلوص و سچائی اور شہادت اور جہاد کے جذبے سے سرشار ہونے کیوجہ سے ہی ممکن ہے جو اس راستے کہ ایک مقدس حرکت جان لیں۔ انہوں نے ” سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائیل کی طرف سے داعش کی حمایت کے متعلق کہا کہ رہبر معظم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش اور دوسرے دہشتگرد گروہوں کو فریب یافتہ لوگ کے عنوان سے جانتے ہیں جبکہ ان کے سرکردہ افراد غیر ملکی ایجنٹ تھے اور عالمی جاسوسی اداروں کی پشت پناہی انہیں حاصل ہے اور وہ ان سے رابطے میں ہیں ۔ ہمیں شام اور عراق میں سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائیل کی طرف سے داعش کی حمایت، بخوبی نظر آرہی ہے۔ جولان کے علاقے پر اسرائیل کا داعش کے ساتھ رابطہ اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے جس میں ابو بکر بغدادی نے برملا کہا ہے کہ ہمارا دشمن شیعہ ہے اور ہمارا اسرائیل کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے اس پس منظر میں اسرائیل کا منحوس وجود ہے اور ان کے سرکردہ لوگ غیر ملکی ایجنٹ ہیں۔

انہوں نے کہا ؛ ایران امریکی اقدامات کو غیر حقیقی تصور کرتی ہے اسے یقین ہے امریکہ کے پاس دہشتگردوں کی سرکوبی کا عزم نہیں بلکہ گذشتہ دہائی میں دہشتگردوں کی سرکوبی کے بہانے عراق اور افغانستان پر چڑھائی کردی وہ دہشتگردوں پر ایک ٹول اور سامان کی حیثیت سے دیکھتی ہے ۔ بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں جہاں شام اور عراق کے تکفیری ،سلفی دہشتگرد گروہوں کی تشکیل ،مالی اور جنگی ساز وسامان کی امداد اور ان کے اہداف و مقاصد کے تعین میں امریکی منیجمنٹ ، امریکی اور یورپی جاسوسی اداروں کی ہماہنگی اور علاقائی عرب ممالک کی حمایت کی نشاندہی کرتی ہیں ،اور رہبر معظم کے قول کے مطابق ان کی نیت صاف نہِیں ہے اسی لئے ایران اس اتحاد میں شمولیت اختیار نہیں کی ۔ انہوں نے مزید کہا ایران موجودہ شرائط کے تحت علاقے میں میدان خالی چھوڑ نہیں سکتی ، کیونکہ یہ بھی ایک اور سازش ہوگی لہذا علاقے کے اقوام کے دفاع کا ایرانی فیصلہ اصولی اور حقیقت پر مبنی ہے ۔

جنرل جوانی نے کہا :اسلامی جمہوریہ نے کھل کر اپنا موقف واضح کردیاہے یہاں تک عراق کے بعض علاقوں کو اپنی سلامتی کیلئے ریڈ زون قرار دیا ہے ۔ یوں ایران اس بات کی اجازت نہیں دےسکتی کہ بد امنی اور خلفشار ایرانی سرحدوں کے قریب پہنچ جائے ۔ حا لات بھی اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ جب بھی ایران نے جنگ زدہ علاقوں میں داعش کے خلاف نبرد ازما مقامی جنگجووں کا ساتھ دیا تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ جنرل یداللہ جوانی نے مزید کہا : داعش کا خیال تھا کہ دمشق سمیت شام کے بڑے شہروں پر جلد قابض یوجائیں گے جبکہ اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا لذا اس شکست کا بدلہ لینے کیلئے کوبانی اور عراق کے بعض شمالی علاقوں پر حملہ کیا ، جبکہ بعض علاقوں سے اپنے مسلح جتھوں کو واپس بلالیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ہے :داعش کاطریقہ لوگوں کے درمیان جاکر اپنے لئے انسانی شیلڈ بنانا ہے اسی لئے ان کی سرکوبی کیلئے زیادہ وقت درکار ہے ۔ عراقی اور شامی حکومتوں کا کہنا ہے ؛ داعش اور دہشتگردوں کےساتھ لڑائی کے دوران ایسا حربہ اپناناچاہئے جس سے سویلین افراد کو نقصان نہ پہنچے ۔

انہوں نے داعش کی سرکوبی میں ایران کے کردار کے بارے میں کہا ؛ ایران کو پہلے ہی یقین تھا کہ ایک بین الاقوامی سازش علاقے میں لاگو کی جارہی ہے ،اسلامی جمہوریہ ایران علاقائی صورتحال پر تحلیل اور تجزئے کے بعد علاقے کے جائز حکومتوں کی حمایت اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یوں شام میں بشار الاسد کی حمایت کا اعلان کیا جو کہ در حقیقت شامی عوام کی حمایت تھی ۔ کیونکہ شام ایک بین الاقوامی سازش کے زد میں رہی اوریہی مسئلہ عراق کا ہے ۔ عراق اور شام کو ایرانی امداد اور حمایت کی نوعیت مشیروں کی فراہمی اور تجربوں کی منتقلی ہے ۔ ایران کو حاصل یہ تجربے پاسداران انقلاب کےقدس فورس کے ذریعے منتقل ہوئے جس کی مدد سے عراقی اور شامی عوام داعش کے خلاف میدان کارزار میں اترکر آئے ۔ انہوں نے مزید کہا ؛ عراق کے عوام کو ایرانی تجارب اور مشوروں کے تحت بعض تربیتی اور تبدیلیوں کے مراحل سے گذرکر میدان میں آنے کے بعد داعش اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی پیشقد می روکنے میں کامیابی ملی ہے ۔

ایران کے ارد گرد میں پیش آنیوالے حالات خاص کر مغرب میں داعش اور مشرقی علاقے میں افغانستان پاکستان میں جیش العدل اور طالبان کے متوقع خطرات سے نمٹنے کیلئے کیےجانیوالے اقدامات کے بارے میں جنرل نے کہا ؛ اگر مغربی ایشیا کے پر تلاطم خطے پر نظر ڈورائیں اکا دکا واقعات کے علاوہ ایران خطے میں سب سے پر امن اور مستحکم ملک رہا ہے ۔جہاں لوگ کاروبار کرنے میں مگن ہیں, تجارت اور آنے جانے میں لگےہوئے ہیں اور سفر میں مصروف ہیں ۔ گذشتہ سالوںمیں سراوان کےعلاوہ کوئی واقعہ رونما نہیں ہواہے جس میں متعدد سکیوریٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے ۔ جبکہ یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ افغانستان اور پاکستان میں موجود دہشتگرد کچھ عرصے کے بعدایران میں کوئی نہ کوئی شرارت کر بیٹھتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ارد گرد شام عراق پاکستان اور افغانستان میں موجود تمام دہشتگرد گروہوں کا تعلق اور رابطہ صہیونی نظام کے موساد اور دیگر امریکی ، یورپی اور علاقائی عرب ممالک کے خفیہ اجنسیوں کے ساتھ ہے ۔ علاقے میں موجود دہشتگرد گروہ سٹلائیٹ اور دیگر ذرائع کے ذریعے آپس میں رابطےمیں ہیں چونکہ ان دہشتگرد گروہوں کا مقصد علاقے کے امن کو تہہ وبالا کرنا ہے لہذا بعض دراندازوں کے ذریعے ایران میں گڑبڑ کرانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ ان دہشتگرد گروہوں کی کوشش تھی ایران کے شمال مغربی ،مغربی اورجنوبی ساحلی پٹی اور سیستان بلوچستان میں اپنے ہمنوا پیدا کریں مگر ایرانی قوم اپنی شعوراور بیداری کی وجہ سے انکی اس سازش کو ناکام بنادیں۔

8:08 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔