جامعہ حفصہ کا لڑکی کو ورثاء کے حوالے کرنے سے انکار ، جہاداالنکاح کیلئے وزیرستان بھیجا جا رہا ہے

اسلام آباد میں واقع لال مسجد نامی مسجدِ ضرارسے ملحق تکفیری دیوبندی مدرسہ جامعہ حفصہ للبنات کی انتظامیہ نے 26سالہ عالمہ فاضلہ لڑکی کو ورثاء کے حوالے کرنے کی بجائے اسلحے کے زور پر لڑکی کے بھائی پر وحشیانہ تشدد کیا اور لڑکی کو بھائی کے ساتھ بھیجنے کی بجائے حبس بے جا میں رکھتے ہوئے لڑکی کو ورثاء کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق جامعہ حفصہ کی انتظامیہ لڑکی کو جہاد النکاح کیلئے وزیرستان بھیجنا چاہتے ہیں۔ واقعہ کی اطلاع کے بعد آبپارہ پولیس جامعہ حفضہ پہنچ گئی، انتظامیہ نے پولیس کو انکار کرتے ہوئے کہا کہ طالبہ کو صبح عدالت میں پیش کرینگے جس پر وفاقی پولیس بے بس ہوگئی تاہم طالبہ کے بھائی پر تشدد کے حوالے سے پولیس نے میڈیکل کرواکر قانونی کارروائی شروع کر دی ۔لڑکی کے والد شیخ عبدالقیوم نے میڈیا کو بتایا کہ میری بیٹی گھر میں تھی تو اس نے عجیب سی آواز میں کہا کہ میرا کفن تیار ہے اور میں جہاد پر جا رہی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ہماری بیٹی کو جامعہ حفصہ سے فی الفور بازیاب کرا کر ہمارے حوالے کرے، ہمیں شک ہے کہ جامعہ کی اتظامیہ نے تشدد اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کے ذریعے ہماری بیٹی کی برین واشنگ کی ہے۔ اس حوالے سے جب ایس ایچ او آبپارہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ہمارے پاس درخواست موجود ہے جس کے تحت ہم کارروائی کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ لڑکی کو جامعہ حفصہ کی انتظامیہ جہادالنکاح (زنا) کے نام پر امریکی سعودی نواز تکفیری دہشتگردوں کی جنسی تسکین کیلئے وزیرستان بھیج رہی ہے، جس پر لڑکی کے گھر والوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیاہے۔ واضح رہے کہ کراچی سمیت پاکستان بھر کے دیوبندی وہابی مدارس اور مفتیوں کیخلاف سینکڑوں رپورٹیں اس وقت منظر عام پر اا چکی ہیں جس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دیوبندی مدارس اور مفتیوں نے ناصرف لڑکوں کو شام، بحرین، عراق بھیج کر امریکی جہاد کی نذر کر دیا بلکہ دیوبندی مدارس کی سینکڑوں معصوم طالبات کو بھی امریکی سعودی نواز تکفیری دہشتگردوں کی جنسی تسکین کیلئے جہاد النکاح (زنا) کے نام پر شام و عراق بھیجا جا چکا ہے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور اب تازہ اطلاعات کے مطابق دیوبندی مدارس کی طالبات کو جہاد النکاح (زنا) کے نام پر وزیرستان میں موجود اسلام و پاکستان دشمن تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی جنسی تسکین کیلئے بھی بھیجنے کا سلسلہ شروع ہو چکاہے۔ اس حوالے سے اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ ایک پاکستانی نجی نیو چینل پر ایک لائیو ٹاک شو کے دوران پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنماء عمر ریاض عباسی نے دیوبندی مدرسہ جامعہ بنوریہ العالمیہ کراچی کے سرپرست مفتی محمد نعیم پر یہ الزام عائد کیا کہ مفتی نعیم سمیت دیوبندی مدارس اور مفتیوں نے اپنے مدارس کی لڑکیوں کوجہاد النکاح (زنا) کیلئے شام بھیجا ہے۔








