کرم ایجنسی: شیعہ علاقوں میں بارودی سرنگوں کےدھماکے2 شہید

کرم ایجنسی: پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں منگل کی صبح باردوی سرنگ کے تین مختلف دھماکوں میں کم سے کم دو افراد شہید اور چھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں، پولیٹکل انتظامیہ کرم ایجنسی کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ یہ دھماکے منگل کی صبح اپر اور سنٹرل کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں پیش آئے، انھوں نے کہا کہ سنٹرل کرم ایجنسی کے علاقے پیواڑ تنگی میں ایک مسافر گاڑی سڑک پر جارہی تھی کہ راستے میں بارودی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بن گئی، جس میں عابد حسین سمیت دو افراد شہید اور تین زخمی ہوگئے، مرنے والے افراد عام شہری بتائے جاتے ہیں، اہلکار کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے سنٹرل کرم ایجنسی کے علاقے میں بھی ایک سڑک کے کنارے نصب باردوی سرنگ کے دو دھماکے ہوئے جس میں تین افراد زخمی ہوئے، تاہم ان دھماکوں کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی تنظیم نے ان کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پارا چنار سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان اور اِن کے اتحادی چہلم امام حسینؑ سے قبل فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ذریعے انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں گزشتہ چند مہینوں سے سڑک کے کنارے نصب باردوی سرنگ کے دھماکوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس میں ابتک درجنوں افراد مارے جاچکے ہیں، انھوں نے کہا کہ بیشتر واقعات میں مسافر گاڑیاں نشانہ بنتی ہیں، جس سے عام لوگ شہید ہوتے ہیں، پارا چنار سے پشاور کو ملانے والی سڑک پر طالبان کے حمایتی قبائل مسلح حملے کرتے ہیں، تاکہ شیعہ مسلک کے افراد اور رسد پارا چنار نہ پہنچ سکے، تاہم حکومت کی جانب سے ان دھماکوں کو روکنے کے حوالے سے اقدامات نظر نہیں آتے۔
خیال رہے کہ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے ملک کا انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے، ماضی اس ایجنسی میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔








