فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روکنے کا صہیونی فیصلہ

رمضان المبارک کے آتے ہی صہیونی فوج اوراسرائیل کے دیگر ریاستی اداروں کی جانب سے فلسطینیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردی جاتی ہیں۔
تقریب نیوز (تنا): ذرائع کے مطابق اسرائیلی پولیس اور فوج نے مشترکہ طورپر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ماہ صیام کے بقیہ ایام میں فلسطینیوں پر ان کی مسجد اقصیٰ میں داخلے کے حوالے سے مزید سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کریں گے۔ اس سلسلے میں آج رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ کو صہیونی حکام نے مغربی کنارے، بیت المقدس اور شمالی فلسطین کے دیگر شہروں سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے قبلہ اول میں آنے والوں کو سختی سے روکا جائے گا۔
جمعرات کے روز صہیونی ملٹری پولیس کی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ رمضان المبارک کے پیش آئند ایام بالخصوص جمعہ کے ایام میں ہزاروں کی تعداد میں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے گذشتہ ایام میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کو سہولیات فراہم کی گئی تھیں تاہم اب مسجد اقصیٰ میں ان کے داخلے پر مزید سختی کی جائے گی۔
صہیونی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے کے درمیان فلسطینیوں کی نقل وحرکت کی وجہ سے علاقے میں یہودی بستیوں کی سیکیورٹی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں صرف چالیس سال سے زائد عمر کےافراد کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔








