بيروت دھماکہ، لبنان کے خلاف خطرناک سازش

منگل کو جنوبي بيروت ميں ايک طاقتور کار بم کا دھماکہ ہوا اس دھماکے ميں پچاس سے زائد افراد زخمي ہوگئے جن ميں متعدد کي حالت نازنک بتائي گئي ہے – دھماکہ اتنا شديد تھا کہ آس پاس کي گاڑياں بھي تباہ ہوگئيں اور کافي مالي نقصان ہوا ہے –
شواہد بتاتے ہيں کہ اس دہشتگردانہ کاروائي ميں شام ميں سرگرم دہشتگرد گروہوں اور ان کے لبناني حاميوں کا ہاتھ ہے –
شام ميں سرگرم دہشتگرد گروہوں نے لبنانيوں اور خاص طور پر سرحدي علاقوں کي باشندوں کي جانب سے ان کے ساتھ تعاون نہ کئے جانے کے بعد اعلان کيا تھا کہ وہ بدامني کا دائرہ وسيع تر کرکے لبنان تک پہنچاديں گے –
اسي کے ساتھ بعض ذرائع نے رپورٹ دي ہے بيروت دھماکے ميں فري سيرين آرمي کا ہاتھ ہے
الميادين ٹي وي کے مطابق فري سيرين آرمي کے ايک کمانڈر بسام الدادہ نے بيروت کاربم دھماکے کي ذمہ داري قبول کرلي ہے –
قابل ذکر ہے کہ شام ميں سرگرم دہشتگرد گروہ شام کے بحران کو بين الاقوامي رنگ دينے اور اپني مسلسل شکستوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ، اپني دہشتگردانہ کاروائيوں کا دائرہ شام کے سرحدوں سے باہر تک پھيلادينے اور لبنان کو بھي اس ميں شامل کرنے کي کوشش کررہے ہيں –
بيروت کاربم دھماکہ ان کي اسي کوشش کا حصہ ہوسکتا ہے –
شام ميں بشار اسد حکومت کے خلاف سرگرم مغرب کے حمايت يافتہ دہشتگرد گروہ لبنان کے اندر اپنے لئے اڈے بنانا چاہتے ہيں – اس کے علاوہ ان کا ايک مقصد يہ بھي ہے کہ شام کي طرح لبنان ميں بحراني حالات پيدا کرديئے جائيں-
شام خطے ميں امريکا اور صيہوني حکومت کے مقابلے ميں تحريک مزاحمت کا محاذي ملک سمجھا جاتا ہے اور اسي لئے اس ملک کے عوام کو انواع و اقسام کي سازشوں کا سامنا ہے
– شام ميں بحران پيدا ہي اسي لئے کيا گيا ہے کہ صيہوني حکومت کے مخالف اس محاذي ملک کو کمزور کيا جائے-
اب بيروت دھماکے کے بعد ايسا لگتا ہے کہ جن سازشي طاقتوں نے شام ميں بحران پيدا کيا ہے وہ اب صيہوني حکومت کے خلاف تحريک مزاحمت کے مرکزلبنان کو بھي اسي قسم کے حالات سے دوچار کردينا چاہتي ہيں – اسي مقصد کے تحت گزشتہ دنوں انتہا پسند سلفي ليڈر احمد القصير کا سازشي فتنہ کھڑا کيا گيا اور اس کے مسلح افراد نے لبنان کي فوج اور تحريک مزاحمت حزب اللہ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنايا ليکن فوج کے بروقت ردعمل اور حزب اللہ کے موقف نے اس سازش کو ناکام بناديا ليکن صيہوني حکومت کي حامي سامراجي طاقتيں خاموش نہيں بيٹھي ہيں اور مختلف طريقوں سے لبنان کے خلاف سازشوں ميں مصروف ہيں –
اس درميان بعض حلقوں نے بيروت دھماکے ميں صيہوني حکومت کو ملوث بتايا ہے –
حقيقت يہ ہے کہ صيہوني حکومت ، اس کے حامي مغربي ممالک، علاقے کي رجعت پسند حکومتيں اور ان کے حمايت يافتہ دہشتگرد گروہ ، سب کا ايک ہي مقصد ہے کہ صيہوني حکومت کے مخالف محاذ کو کمزور کيا جائے اسي مقصد کےتحت انہوں نے شام ميں دہشتگردي شروع کي ہے اور لبنان کے خلاف سازش ميں بھي يہ سب ملوث ہوسکتے ہيں –








