

ایک زمانہ تھا جب غاصب صہیونی حکومت، جو جی میں آئے کرلیتی تھی اور جو دھمکی دیتی تھی اس پر عمل درآمد کرنے سےنہیں چوکتی تھی لیکن اب اس کی ہر دھمکی کا فور طور پر منہ توڑ جواب دینے والے موجود ہیں اور اس کی دھمکیاں محض گیدڑ بھپکی بن کر رہ گئیں ہیں۔اس کی ایسی ہی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے ایک سینئر رہنما شیخ محمد یزبک نے کہا ہے کہ صیہونی
حکومت کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حزب اللہ پوری طرح تیار ہے۔ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ محمد یزبک نے پورے لبنان کی حفاظت کے لیۓ حزب اللہ کی مکمل آمادگي کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن، حزب اللہ کو نقصان پہنچا کر لبنانیوں کو ذلت کی زندگي قبول کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں لیکن حزب اللہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گی۔لبنان کے تعلق سے یہ بات سب پر عیاں ہے کہ سن 80 کے ابتدائی عشرے میں لبنان کے دارالحکومت بیروت تک صہیونی فوجی دنداتے پھرتے تھے اور جنوبی لبنان کا پورا سر سبز شاداب خطہ مکمل طور سے صہیونیوں کے قبضے میں تھا اور پورا ملک خانہ جنگی کی آگ میں جل رہاتھا، ایسے میں حزب اللہ کی فکر رکھنے والے جوانوں نے آگے بڑھ کر صہیونیوں کا راستہ روکنے کا اردہ کیا اور سر سے کفن باندھ کر میدان میں نکل آئے۔ بعد ازاں حزب اللہ کے نام سے جب باضابطہ طور پر منظم ہوگئے تو نہ صرف اسرائیلیوں کو پیچھے دھکیل دیا بلکہ اپنے وطن سے بیرونی طاقتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کے مفادات کو بھی خطرے میں ڈالدیا۔حزب اللہ کے جوانوں اور جنوبی لبنان کے مومن عوام کی بیش بہا قربانیوں کا ہی یہ نتیجہ کہ آج لبنان، سیاسی اور معاشی لحاظ سے ایک مضبوط ملک شمار ہوتا ہے۔غاصب اسرائیل کے حملوں اور جارحیت کے مقابلے میں یہ حزب اللہ اور اس کے جوان ہیں جو اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کررھے ہیں۔اسرائیل اور اس کی حامی قوتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ جب تک حزب اللہ لبنان میں سیاسی اور فوجی کردار ادا کرتی رہےگی اس وقت تک اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑا رہے گا۔ 33 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور اس عالمی اتحادیوں اور اس کے علاقائی حامیوں کی پوری کوشش یہ تھی کہ جس طرح بھی ممکن ہو حزب اللہ کو ختم کردیا جائے، لیکن حزب اللہ کے جوانوں کو تائید الہی حاصل تھی اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس غیر مساوی جنگ میں اسرائیلیوں کو انتہائی ذلت آمیز طریقے سے شکست ہوئی اور نئے مشرق وسطی کا منصوبہ لیکر امریکہ کی ملکہ جنگ کونڈا لیزا رائیس ناکام و نامراد اپنے دفتر میں جا دبکی۔ اس وقت اسرائیل نواز طاقتیں حزب اللہ کو مختلف طریقوں سے لبنان کے سیاسی میدان سے حذف کرنے اور اس سے ہتیار واپس لینے کے درپے ہیں اور مقصد کے لئے سات سمندر پار سے امریکہ اور مغربی ملکوں کے ساتھ ملک کے اند ان کے داخلی ایجنٹ سازشوں پر سازشیں کررھے ہیں۔البتہ حزب اللہ اتنی آسانی سے میدان چھوڑنے والی نہیں چنانچہ پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ محمد رعد نے کہا ہے کہ جو لوگ لبنانی حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے خواہاں ہیں وہ امریکہ اور صیہونی حکومت کےغلام اور ایجنٹ ہیں۔محمد رعد نے کہا کہ لبنانی حکومت کے مخالفین، جو تخریب کاری کے منصوبے بنارہے ہیں وہ دراصل امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ ان سازشوں کے تناظر میں یہ کہتے رہے ہیں کہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہےکہ امریکہ، صیہونی حکومت اور ان کے علاقائی پٹھوؤں کو لبنان میں فتنہ انگيزی اور فرقہ واریت پیدا کرنے سے فائدہ ہوگا، صرف ان ہی کوفائدہ نہیں ہوگا بلکہ سب سے زیادہ فائدہ صیہونی حکومت کو ہوگا، صیہونی حکومت لبنان کو داخلی جنگ کی آگ میں جلتا دیکھ کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکے گي جو توسیع پسندی اور لبنان کی مقبوضہ زمینوں کو ہڑپنے سے عبارت ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں ایک اوراہم بات کی تھی وہ یہ ہےکہ رفیق حریری ٹریبیونل کے اکثر یا سارے کارکن امریکہ کی بدنام زمانہ انٹلجنس ایجنسی سی آئی سے جڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے سی آئی اے میں برسوں تک خدمات انجام دی ہیں۔ حزب اللہ لبنان کی وہ و.احد سیاسی جماعت ہے جو کھل کر یہ کہتی کہ اس کی کی اسرائیلی حکومت کےسوا کسی سےدشمنی نہيں ہے۔اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان کے ڈپٹی سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کا یہ بیان قابل غور ہے کہ حزب اللہ صرف کوئی مسلح گروہ یا محدود تعداد میں اسلحہ رکھنے والا کوئی گروہ نہيں ہے جسے دشمن ختم کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے جس کا مقصد لبنان کے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانا ہے۔یہی وہ سوچ ہے جسے غاصب صہیونی حکومت اور اس کے علاقائی اور عالمی اتحادی اسرائیل کی بقا کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اور یہ وہ خطرہ ہے کہ جس نے غاصب حکومت کے حکام اور اس کے حامیوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ علاقے میں آئی اسلامی بیداری کی لہر اور مغرب نواز پٹھو حکمرانوں کی اقتدار کے ایوانوں سے پس زندان منتقلی سے، اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے کے امام خمینی کے تاریخی فرمان پر عمل درامد کا وقت بہت قریب آگیا ہے۔