میانمار میں تین خواتین کو ہلاک کردیا گیا

خبررساں اداروں کے مطابق میانمار ( برما) کی ریاست راکھنی میں پولیس کی فائرنگ سے تین خواتین ہلاک ہوگئی ہیں ۔
ہلاک ہونے والی خواتین میں سے ایک حاملہ تھیں اور وہ اداروں کی جانب سے انہیں دوسرے عارضی کیمپ میں منتقل کرنے پر احتجاج کررہی تھیں۔
گزشتہ برس رکھنی میں بدھ مت کے پیروکار اور مسلمانوں کے درمیان شدید فسادات ہوئے تھے جن میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ان کی بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔
واضح رہے کہ اب بھی تقریباً دس ہزار روہنگیا مسلمان مختلف کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق مراؤک یو نامی ایک قصبے میں مسلمانوں نے اپنے گاؤں میں پولیس کی آمد پر احتجاج کیا تھا۔
پولیس کے ساتھ تعمیراتی سامان اور مزدور تھے اور وہ مسلم کمیونٹی کو نئے کیمپوں تک منتقل کرنا چاہتے تھے۔ بی بی بی سے نے یہ خبر ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ تاہم پولیس کی فائرنگ کی وجوہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔
بنکاک میں بی بی سی کے نمائیندے جوناتھن ہیڈ نے بتایا کہ ادارے مسلمانوں کومون سون بارشوں سے قبل کسی بہتر مقام پر متنقل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن بدھ مت سے وابستہ افراد کے ڈر یا دشمنی کی وجہ سے یہ امر مشکل نظر آتا ہے۔
واضح رہے کہ برما روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری قرار نہیں دیتا اور انسانی حقوق کے اداروں نے ان کے حقوق کی پامالی پر احتجاج کیا ہے۔








