کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ۱۵۰ افراد زخمی

ہندوستان کے زیرانتظام جموں وکشمیر میں کل ہونیوالے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 150افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر سمیت وادی کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں سخت کرفیو کے باوجود عوام نے ایک بار پھر کل جمعہ کو افضل گورو کی پھانسی اور بارہمولہ ،پاری گام ،سمبل اور وترگام میں ہوئی ہلاکتوں کیخلاف شدید احتجاجی مظاہرے کئے جو رات دیر گئے تک جاری رہے ۔
رپورٹ کے مطابق وادی کے مختلف مقامات پر پر تشدد جھڑپوں میں77 فورسز اہلکاروں سمیت 150سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔
بارہمولہ میں ہزاروں لوگوں نے اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریبات اور نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد کشمیری نوجوانوں کے قتل کے خلاف زوردار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ملوث فوجی اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
سرینگر کی مرکزی جامع مسجد سمیت وادی کی بیشتر مرکزی جامع مساجد میں سخت ترین کرفیو کے باعث نماز جمعہ ادا نہ ہوسکی۔
اس طرح وادی میں مسلسل پانچویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج ہوکررہ گئے اور پائین شہر سمیت کئی علاقے مسلسل تیسرے روز سخت کرفیو کی زد میں رہے۔پائین شہر کے متعدد علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد پولیس سی آر پی ایف اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ۔اس دوران سول لائنز علاقوں کے دیگر متعدد علاقوں میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔دریں اثناء شہر کے سبھی علاقوں سے شبانہ مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا جس کے دوران متعدد فورسز اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں ۔ذرائع کے مطابق شام کے وقت سرینگر بارہمولہ ہائی وے پر ایچ ایم ٹی کے مقام پر فورسز اہلکاروں نے متعدد گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی جبکہ کئی ڈرائیوروں کی بھی مار پیٹ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔








