ہم شام کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، جنگ دونوں ملکوں کے لیے یکساں تباہ کن ثابت ہوگی

ترک وزیراعظم کے چیف مشیر ابراہیم کلن‘ رکن پارلیمنٹ ایکان اردمیر اور 76 فیصد ترک عوام نے شام کے ساتھ جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے ساتھ جنگ سنگین غلطی ہوگی۔
تقریب نیوز (تنا): چینی ذرائع کے مطابق ترکی میں حالیہ ملک گیر سروے کے دوران 76 فیصد عوام نے شام میں ترکی کی یکطرفہ مداخلت کی مخالفت کی جبکہ صرف 17 فیصد لوگوں نے ترکی کی جانب سے بشارالاسد حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی۔
ترک وزیراعظم طیب اردوان کے چیف مشیر ابراہیم کلن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم شام کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، جنگ دونوں ملکوں کے لیے یکساں تباہ کن ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی بفر زون کے قیام کے لیے اپنا مطالبہ جاری رکھے گا۔
اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایکان اردمیر نے چینی خبر رساں ذرائع کو بتایا کہ اگر ترکی نے شام کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا تو دونوں ملکوں کے لیے تباہی کا باعث بنے گی اور اس سے ترکی کا سماجی استحکام، اقتصادی ترقی اور جمہوری عمل بری طرح متاثر ہوگا۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں شام کی جانب سے مارٹر گولے فائر کرنے اور اس کے نتیجے میں ہلاکت کے باعث ترک پارلیمنٹ نے شام پر فوجی کارروائی کی منظوری دیدی تھی۔
ترکی کی جانب سے جوابی حملے بھی کیے گئے تھے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر اقوام متحدہ کے چیف بانکی مون نے ترکی سے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا تھا۔








