سعودی دہشت گرد أبو سياف السعودي کےسورياپہچنے پرالقاعدة استقبال کیا جبکہ داعش نے دھمکی دیا۔

سعودی عرب کا مشہورزمانہ دہشت گرد ماجدالراشد جو ابوسیف کے لقب سے مشہور ہے،شام میں داخل ہوکر دہشت گردجماعتوں کے ساتھ مل گیا ہے،ذرائع کاکہنا ہے ابوسیف نے سوشل میڈیا کے ایک سائیٹ پراپنے خط میں کہا ہے کہ اس نے اپنے والد،بچے اور بھائیوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دوران سفران کو اپنی خیریت کی اطلاع نہیں دے سکا اور کہا ہے کہ اب وہ شام میں پہنچ چکاہے جہاں القاعدہ کے دہشت گردوں نے اس کو "نفیر الشیخ ماجدالراشد” کے نام سے استقبال کیا ہے ۔دوسری جانب داعش کے کی جماعت نے اسے "الراشد” کے نام سے پکارا،انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ کوئی سعودی عرب کا ایلچی ہوگا جویہاں سابق ایلچی عبداللہ المحیسنی کے بعد اپنے مہم کے لئے آیا ہے،اسی لئے انہوں نے اسے طاغوت کہا،اس کے جواب میں الراشد نے البغدادی کی جماعت سے لڑنے کا مطالبہ کیااورکہا ہے کہ داعش ایک مجرم جماعت ہے لہذا یہ اوران کے اہلکاروں کو قتل کرنا چاہیئے۔
یادرہے کہ ماجدحمدان الراشد سعودی عرب کے الجوف کے علاقے کاباشندہ ہے جوالقاعدہ کے ساتھ ملوث ہونے پاداش میں17سال تک وہاں کے جیلوں میں رہاہے








