آل خلیفہ کے کرایے کے غنڈے اور اسلامی بیداری کے لیے ممکنہ خطرات

14 مارچ, 2011 10:06

bahrain-protestایسا لگتا ہے کہ بحرین کے مطلق العنان اور عوامی سطح پر ناپسندیدہ حاکم مسٹر خلیفہ اب اپنی آخری اور نئی چال چلنا چاہتے ہیں کیونکہ گذشتہ روز ان کے وہ مسلح حامی میدان میں نظر آئے جنہیں وہ بیرونی ممالک سے کرایے پرحاصل کرچکے ہیں اور انہیں بحرین کی شہریت دی گئی ہے ۔
گذشتہ روز انہی کرایے کے حامیوں نے ایک عوامی مظاہرے پر حملہ کردیا اور چند افراد کو اپنے خنجروں،تلواروں اور ڈنڈوں سے زخمی کردیا ۔
درحقیقت یہ وہی کھیل ہے جیسے بحرینی مسٹر خلیفہ حمدسے پہلے تیونس اور مصر کے ڈکٹیٹرز کھیل چکے ہیں یعنی سویلین لباس میں پولیس ،فوج یا پھر زر خریدوں کو عوام کے مقابلے میں لا کھڑا کرنا جیسا کہ اس وقت لیبیا میں بھی ہورہا ہے ۔ اور عرب دنیا ان کو مرتزقہ یا بلطجیة النظام کے نام سے یاد کرتی ہے ۔
دوسری جانب بحرینی انقلابیوں کی دو اہم خوبیوں نے خلیفہ کو سخت مشکل میں ڈالا ہوا ہے اور وہ دو اہم خوبیاں بحرینی انقلابیوں کامذہبی اتحاد اور عدم تشدد کی پالیسی ہے بحرینی انقلابیوں میں اہلسنت کی ایک بڑی تعدادباوجود ملک کی اقلیت ہونے کے شیعہ اکثریت کے ساتھ ہے اور یوں بہت حد تک خلیفہ شیعہ سنی تفرقہ ایجاد کرنے میں اب تک ناکام رہا ہے ، اور شیعہ اور سنی یک جان دو قالب کی مانند اب تک مشترکہ اہداف کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں
البتہ اس بات کا سارا کریڈٹ اس شیعہ اکثریتی قیادت کو ملتا ہے جس نے بحرینی عوام کو درست سمت اور جہت دی ہے جو بار بار بحرینی وحدت اور مذہبی اتحاد کے نعرے لگاتے ہیں اور میدان عمل میں بھی وہ ایسے اقدامات کررہے ہیں کہ جس کے سبب خلیفہ کی جانب سے مذہبی تفرقہ کی ہر چال ناکام جارہی ہے ،آل خلیفہ کی خفیہ ایجنسیاں اب تک مذہبی تفرقہ کی کوشش پر تو ناکام رہیں ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب وہ اپنے کرایے کے غنڈوں کا استعمال کر سکتے ہیں
آنے والے دنوں میں شاید ہم خلیفہ کے کرایے کے غنڈوں کی جانب سے عوام پر مزید حملات کامشاہدہ کر یںاور ایسا بھی ممکن ہے کہ خلیفہ کے یہ کرایے کے حامی بلوں کاآغاز کریں اور عوامی مظاہروں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ آل خلیفہ کے لئے وقتی حل تو ہوسکتا ہے عوامی ارداے کو بدل یا خوفززہ نہیں سکتا ۔خلیفہ کی جانب سے کسی بھی قسم کا تشدد اس کے ظالمانہ اقتدار کی عمر کو مزید کم کردیگا ۔
یہاں سوال یہ بھی ہے یہ احتجاجات کب تک اسی طرح چلتے رہینگے جس کا جواب ہمیں گذشتہ روز ملک کی سب سے بڑی عوامی سیاسی جماعت الوفاق الوطنی کے سیکرٹری جنرل علامہ علی سلمان کی تقریرسے معلوم ہوتا ہے کہ عوامی لیڈروں کے پاس اپنے احتجاجی مراحل کا ایک مکمل پلان موجود ہے اور خود راقم کا بحرینی وفاق وطنی کے ایک لیڈر سے کی گئی گفتگو سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے سامنے چلینجز کیا ہیں اور کیسے انکا سامنا کیا جائے گا۔بحرینی عوامی لیڈروں کا اگلا قدم عوامی سول نافرمانی اور پھر اہم مراکز کا گھراﺅ اور ملکی نظم نسق کے لئے عوامی انتظامی کیمیٹیوں کا اعلان ہوسکتا ہے جیسا کہ دنیا کے اکثر انقلابات کے آغاز میں ہوا کرتا ہے
جس کا مشاہدہ ہم اس وقت کسی حد تک لیبیا کے بعض شہروں میں کر رہے ہیں ۔
یہاں دلچسب بات یہ ہے کہ اس وقت تک تمام انسانی حقوق اور آزادی و جمہوریت کے فروغ کے دعوئے دار عالمی ادارے بحرین میں گذشتہ تین ہفتوں سے جاری لاکھوں لوگوں کے ان احتجاجات کے بارے میں خاموش نظر آتے ہیں ،جیسا کہ وہ اس سے پہلے تیونس اور مصر پھر لیبیا کے بارے میں یہی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے لیکن وہاں پر جب دیکھا کہ ان کے پٹھو حکمران مار کھا رہے ہیں اور عوامی طاقت انہیں بے بس کرچکی ہے تو فورا انہوں پنترا بدلا اوربظاہر انقلابیوں کی حمایت کی دوڑ میں لگ گئے ،البتہ کی اس دوڑ کا مقصد در پردہ کچھ اور تھا کہ جس کے بارے میں رہبر مسلمین حضرت آیة اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے ان ممالک کی مسلم عوام کو اس بات سے خبردار کیا تھا کہ استعماری طاقتیں اس اسلامی بیداری کو اغواءکر کے اس کی جہت اور سمت کو اپنے حق میں موڑ سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بے چاری مسلم عوام آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جائے گی ۔
انتہائی خوش آیند بات یہ ہے کہ تیونس سے لیکر یمن تک اسلامی بیداری کی جد وجہد کرنے والے ہراول دستے کے لوگ ان خطرات سے آگاہ ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اس عوامی جدوجہد کو استعمار ی اغواکاروں سے بچالینگے.
تحریر : ع صلاح ماہر امور مشرق وسطیٰ

7:00 شام اپریل 9, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔