عرب ممالک شہريوں کے حقوق کي پاسداري کريں بان کي مون

23 جنوری, 2013 08:58

ban k monاقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل بان کي مون نے عرب حکومتوں سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ بد عنواني کے سد باب اور اپنے ملک ميں سماجي بہبود کے لئے وسيع پيمانے پر اصلاحات کريں –
بان کي مون نے سعودي عرب کے دار الحکومت رياض ميں عرب ملکوں کي اقتصادي و سماجي کانفرنس ميں اپنے پيغام ميں کہا کہ گذشتہ چند برسوں سے ، عرب ملکوں کے عوام اپنے اپنے ملکوں ميں سياسي تبديليوں ، جمہوريت ، اقتصادي و سماجي ترقي اور بد عنواني کے خاتمے کے خواہاں ہيں اور يہ کانفرنس ان مطالبوں کي تکميل کي سمت ميں ايک قدم ہو سکتي ہے-
اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل نے سماجي مسائل کے حل کے لئے سياسي تعاون کي اہميت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ عرب معاشروں ميں ترقي کا عمل جنگ اور بد عنواني کي وجہ سے تعطل کا شکار ہے-
عرب ليگ کے رکن ملکوں کا اقتصادي و سماجي ترقي کا تيسرا اجلاس ، پير کے روز رياض ميں شروع ہوا ہے جس ميں کچھ عرب رہنما اور بيس سے زائد ملکوں کے مندوبين شرکت کر رہے ہيں –
يہ اجلاس ايسے حالات ميں منعقد ہو رہا ہے کہ جب عرب دنيا ، سياسي و معاشي شعبوں ميں کئ چيلنجوں کا سامنا کر رہي ہے – اجلاس کي ميزباني کرنے والے سعودي عرب ميں ، دنيا کا سب سے زيادہ گھٹن والا سياسي نظام رائج ہے

4:02 صبح مارچ 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔