عراق:دہشت گردی کے باوجودلاکھوں عاشقان حسینی کربلا پہنچ گئے

12 جنوری, 2012 09:28

shiitenews karbala9فرزند پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر دنیا بھر سے عاشقان حسینی کا سیلاب امڈ آیا ہے ۔شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کربلائے معلی میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر مراسم عزاداری برپا کرنے کے لئے دنیا بھر سے لاکھوں زائرین امام حسین علیہ السلام کربلائے معلی پہنچ چکے ہیں ۔

واضح رہے کہ عراق بھر میں ناصبی دہشت گردوں کے حملے جاری ہیں جبکہ دہشت گردی کے بڑے حملوں کے خطروں کے باوجود لاکھوں عاشقان امام حسین علیہ السلام کوسوں میل کا سفر پیدل طے کرتے ہوئے کربلائے معلی پہنچ چکے ہیں جبکہ لاکھوں کی آمد متوقع ہے۔

عراقی سرکاری زرائع نے کہا ہے کہ اس وقت کربلائے معلی میں لاکھوں کی تعداد میں زائرین امام حسین علیہ السلام موجود ہیں جبکہ شب چہلم یعنی ہفتے کی شب تک تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد کا کربلائے معلی میں ہونے کا امکان قوی ہے ۔عراقی سرکاری زرائع نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے بڑے خطرات منڈلا رہے ہیں تاہم دنیا بھر سے پہنچنے والے عزاداران امام حسین علیہ السلام کی تعداد میں پل پل حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے سبب یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ شب چہلم تک تقریبا ڈیڑھ کروڑ عزاداران امام حسین علیہ السلام کربلائے معلی پہنچ جائیں گے۔

شیعت نیوز کے نمائندہئ خصوصی کے مطابق اس وقت کربلائے معلی میں مراسم عزاداری کا سلسلہ جاری ہے جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عزاداران امام حسین علیہ السلام شینہ زنی اور سروں پر ماتم کرتے ہوئے کربلائے معلی میں داخل ہو رہے ہیں اور پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ان کے نواسے کی شہادت کے چہلم پر ہدیہ تعزیت پیش کر رہے ہیں ۔

کربلائے معلی میں مدفون حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے بھائی حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے حرم کے اطراف میں سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں جبکہ قدیمی تصوراتی تصاویر بھی آویزاں کی گئی ہیں ۔

کربلائے معلی کے گورنر عمل الدین الحر کا کہنا ہے کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ان دو ہفتوں میں دنیا بھرسے آنے والے لاکھوں عزاداران امام حسین علیہ السلام کی تعداد کو دیکھ کر ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ شب چہلم یعنی ہفتے کی رات کو کربلائے معلی میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد عزاداران امام حسین علیہ السلام موجود ہوں گے جو مراسم عزاداری انجام دیں گے،جبکہ بیس لاکھ سے زائد عزاداران امام حسین علیہ السلام کربلائے معلی کے اطراف میں موجود ہوں گے۔

کربلائے معلی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مزید سواریاں اور سڑکیں موجود نہیںہیں تاہم شہر عزاداران امام حسین علیہ السلام سے بھر چکا ہے تاہم تمام تر ٹراسپورٹ کو بند کر دیا گیا ہے ۔

کربلائے معلی کے گورنر کاکہنا ہے کہ ٣٥٠٠٠ پولیس اورفوج کے اہلکاروں کو کربلائے معلی کے ١٠٠ کلو میٹر کے اطراف میں تعینات کیا گیا ہے تا کہ عراق کے شہروں سے پیدل مارچ کرتے ہوئے آنے والے عزاداران امام حسین علیہ السلام کو دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ رکھاجائے۔

عراق کے پانچ صوبوں میں بیک وقت کمانڈ کرنے والے لیفٹنٹ جنرل عثمان الغنیمی نے بتایا ہے کہ انہو ں نے ٦٠ ناصبی وہابی دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے کہ جو کربلائے معلی میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر بڑی دہشت گردانہ کاروائی انجام دینا چاہتے تھے جبکہ ١٤ روڈ پر نصب کئے گئے بم بھی ناکارہ بنا دئیے گئے ہیں ۔

واضح رہے کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کی آمد کے موقع پر اب تک ناصبی وہابی دہشت گردوں کے حملوں میں بغداد اور جنوبی بغداد کے راستوں میں پیدل آنے والے زائرین امام حسین علیہ السلام میں سے ٧٣ سے زائد شہید ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔

عراق میں شیعہ زائرین ہمیشہ سے ہی ناصبی وہابی دہشت گردوں جو کہ سعودی اور اسرائیلی حمایت یافتہ ہیں کی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں ۔

قابل غور بات ہے کہ سابق ناصبی وہابی دہشت گردوں کے سرپرست اور پھانسی چڑھا دئیے جانے والے صدام ملعون کے دور میں کربلائے معلی میں عاشورا اور چہلم امام حسین علیہ السلام پر شدیدپابندیاں عائد کی جاتتی تھیں ۔

10:38 صبح مارچ 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔