ایران کے خلاف اسرائیل اور عرب حکام کےخفیہ رابطے
رپورٹ کے مطابق فلسطینی ویب سائٹ المنار نے لکھا ہے کہ اسرائیلی ٹیلی ویژن کے چینل 2 نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے حکام سے اعلی اسرائیلی حکام کی خفیہ ملاقاتوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان ملاقاتوں کا مقصد ایران کے خلاف اقدامات کو ہمآہنگ کرنا، ایران کے خلاف اقدامات کرنا اور ان ملکوں کی امریکہ سے قربت ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام ان عرب ممالک کے حکام سے ملاقاتیں کررہے ہیں جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: ان ملاقاتوں کا ایک مقصد اسرائیل اور ان ممالک کے حکام کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہے اور اسی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کا اور ان عرب حکام کا کہنا ہے کہ گویا ایران نے امریکہ کو دھوکا دیا ہے اور اوباما انتظامیہ کو آمادہ کیا جارہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایسے مفاہمت نامے پر دستخط کریں جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو رول بیک کی شق مندرج نہ ہو۔
اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے: "تمام تفصیلات کو فاش نہیں کیا جاسکتا” لیکن قطعی امر ہے کہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے کئی اعلی حکام حال میں خفیہ طور پر اسرائیل کے دورے پر آئے ہیں تاکہ خفیہ طور پر ایران کے خلاف کوششوں اور اقدامات کو ہمآہنگ کی راہیں تلاش کی جائیں۔
صہیونی چینل 2 کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: یہ مسائل ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن ان اجلاسوں اور دوروں کا ہدف ایک نیا محاذ تشکیل دینا ہے جس کو "فکرمندیوں کا محاذ” کہا جاسکتا ہے۔ بنیامین نیتن یاہو اس محاذ کے بانیوں میں سے ہے اور اس کی تشکیل کا ہدف ایران کے مقابلے میں ایک مستحکم رکاوٹ وجود میں لانا ہے اور اس میں خلیج فارس کی زیادہ تر ریاستیں شامل ہونگی۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے عربوں کی سرزمینوں پر قبضہ کررکھا ہے اور عربوں کے خلاف برسر پیکار ہے اور عربوں نے ان کے مقابلے میں عرب لیگ تشکیل دی تھی جو اس وقت اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے لیکن زمانے کی ستم ظریفی دیکھیں کہ وہ اب اسرائیل مخالف محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لئے اسرائیل سے متحد ہورہے ہیں بلکہ متحد ہوچکے ہیں اور شام میں اسی محاذ مزاحمت کے خلاف لڑتے ہوئے اربوں ڈالر خرچ کرچکے ہیں اور خرچ کررہے ہیں۔
ادھر صہیونی چینل 2 نے اقوام متحدہ میں صہیونی ریاست کے مندوب "رون بروسور” سے پوچھا: کیا یہ درست ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات کی بحالی کے پیش نظر خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے حکام نے اسرائیل کے ساتھ رابطے کئے ہیں؟ تو بروسور نے جواب دیا: سعودی عرب اور خلیج فارس کی دوسری عرب ریاستیں در حقیقت ایران کی جانب سے تشویش میں مبتلا ہیں اور اس تشویش کی بنا پر وہ تمام فریقوں سے ملاقاتیں اور بات چیت کررہی ہیں۔
بروسور نے کہا: میں ان کے ساتھ انجام پانے والے اقدامات کے بارے میں کچھ نہيں کہنا چاہتا لیکن جو کچھ میں کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیج فارس کی دوسری عرب ریاستیں ایران کے ایک جوہری ملک میں تبدیل ہونے سے فکرمند ہیں اور اس سلسلے میں وہ مختلف سطوح پر حکام کو اپنے پیغامات پہنچا رہی ہیں۔
صہیونی ریاست کے ٹیلی ویژن کے چینل 10 نے بھی (بقول اس کے) "خلیج فارس کے اعتدال پسند ریاستوں خاص طور پر سعودی عرب” پر منڈلاتے ہوئے نا امیدی کے بادلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کی سفارتی قوت و صلاحیت کا اعتراف کرتا ہے اور کہتا ہے: ایرانی امریکہ کو اپنے پیچھے دوڑا رہے ہیں۔ اس چینل نے کہا ہے کہ اس گیم میں ہارنے والے صرف اور صرف عرب ممالک ہیں۔
بےشک یہ ایران فوبیا کی صہیونی تشہیری مہم ہے جو دوست کو دشمن کے طور پر دشمن کو دوست کے طور پر متعارف کرانے کے لئے ہورہی ہے ورنہ اسرائیل کب سے عربوں کا دوست ہوا اور امریکہ نے کس دوست ملک کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنایا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایرانی کی سفارتی پیشرفت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر عربوں کو اپنے پیچھے دوڑا رہا ہے ورنہ دنیا جانتی ہے کہ ایران عرب ملکوں کا دشمن نہيں بلکہ دوست ہے؛ تاہم وہ امریکہ اور اسرائیل کی سازش میں آکر دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست سمجھ بیٹھے ہیں جس کا خمیازہ بھگتنے میں بہت طویل عرصہ نہيں لگے گا۔
ادھر ڈبلیو این ڈی ویب سائٹ نے لکھا: سعودی عرب اور دوسری عرب ریاستیں صدر روحانی اور صدر اوباما کے درمیان ٹیلیفونک رابطے اور سفارتی تعامل کے بعد اب چین اور روس کی قربت حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
ایک اردنی سفارتکار نے اپنا نام فاش نہ ہونے کی شرط پر کہا ہے کہ کل (2 اکتوبر 2013 کو) ارنی بادشاہ عبداللہ ثانی نے اعلی سعودی و دیگر عرب حکام سے بات چیت کی ہے اور اس ملاقات میں صدر حسن روحانی اور اوباما کے ٹیلیفونک رابطے کے آثار و نتائج کا جائزہ لیا گیا ہے۔
عرب ممالک کے حکام نے ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی سے شدید ترین تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس اجلاس میں عرب حکام نے سعودی و دیگر عرب حکام کی اس تجویز کا بھی جائزہ لیا کہ چین اور روس سفارتی میدان اور تجارت میں زیادہ بڑا کردار ادا کریں۔
آل سعود نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ وہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے چین اور روس کو سستی قیمت پر تیل فروخت کرنے کے لئے تیار ہیں۔