سنی علمائےکرام کی کریمۂ اہل بیت حضرت معصومہ (س) کے حرم پر حاضری
لبنان کے "عمل الاسلامی محاذ” کا اعلی سطحی وفد کا دورہ ایران، مختلف ملکی حکام سے ملاقاتیں، جمعہ کے روز قم میں کریمۂ اہل بیت سیدہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر میں حاضری اور زيارت، نماز اور فرزندان رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے حرم کی زیارت میں شیعہ اور سنی برادران کی حاضری نے وحدت مسلمین کے خوبصورت مناظر رقم کئے۔
رپورٹ کے مطابق لبنان کے عمل الاسلامی محاذ کے ایک اعلی سطحی وفد اسلامی جمہوریہ ایران کے دورے پر ہے۔ اس وفد نے مختلف اعلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور جمعہ کے روز وفد کے اراکین نے قم المقدسہ کا دورہ کیا اور جمعہ کی نماز اور پھر زيارت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا پر حاضری دی۔
وفد کے اراکین اہل سنت کے پائے کے علماء میں شمار ہوتے ہیں اور انھوں نے سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کرکے منحرف سلفیوں اور وہابیوں کے کے باطل عقائد کو باطل کرکے رکھ دیا جو انبیاء، اولیاء اور صالحین کی قبور کی زیارت کو حرام سمجھتے ہیں۔
لبنانی علماء نے قم آیت اللہ حسینی بوشہری کی امامت میں نماز جمعہ ادا کی۔
لبنان کے سینئر سنی علماء کی شیعہ برادران کے ساتھ مل کر نماز جمعہ کی ادائیگی اور اولاد رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی زیارت کرکے اسلامی وحدت کے حسین اور ایمان افروز مناظر رقم کئے۔
سات رکنی لبنانی وفد کا دورہ اسلامی جمہوریہ ایران
قابل ذکر ہے کہ لبنان کے عمل اسلامی محاذ کا ایک اعلی سطحی سات رکنی وفد چار روزہ دورے پر اسلامی جمہوریہ ایران آیا تھا اور انھوں نے اپنے اس سفر میں کئی علمائے کرام اور سرکاری حکام سے ملاقاتیں اور بات چیت کی۔
وفد کے اراکین کے نام:
1۔ حرکۃالامۃ کے سربراہ، جامعۃ دعوۃالاسلامیۃ کے استاد اور عمل الاسلامی محاذ کے سیکریٹری جنرل "شیخ عبدالناصر عبدالله الجبری”۔
2۔ جبہۃالعمل القاوم کے سربراہ اور لبنان میں علمائے مسلمین سوسائٹی کے سیکریٹری نیز بلاد شام کی اتحاد علماء سوسائٹی کے نائب سربراہ "شیخ زهير عثمان الجعيد”۔
3۔ لبنان کی حرکۃالتوحید الاسلامی کے سیکریٹری جنرل اور مرحوم عالم دین علامہ شیخ سعید شعبان کے فرزند "شیخ بلال سعید شعبان”۔
4۔ الفجر دھڑے کے سربراہ اور سنہ 1982 میں جارح صہیونی دشمن کے خلاف صیدا شہر میں لڑنے والی الفجر فورسز کے کمانڈر "حاج عبدالله التریاقی”۔
5۔ بعلبک شہر سے لبنانی رکن پارلیمان اور الوفاء للمقاومۃالاسلامیۃ پارلیمانی گروپ کے رکن "ڈاکٹر کامل الرفاعی”۔
6۔ یوتھ اینڈ چینج تحریک کے سربراہ "پروفیسر استاد سالم فتحی یکن۔
7۔ "فتحی یکن فاؤنڈیشن” کے سربراہ اور حکومت میں جمعیت عمل الاسلامی کے نمائندے "شیخ محمود جسن البضون”۔
اس وفد میں حرکۃ عمل الاسلامی کی مرکیز شوری کے رکن "پروفیسر عماد الجرادی” بھی شامل تھے۔
جبہۃالعمل الاسلامی کا اعلی سطحی وفد اسلامی جمہوریہ ایران کے بعد ترکی کے دورے پر جانے کا ارادہ رکھتا ہے تا کہ شام کے مسائل میں براہ راست مداخلت کرکے وہاں فرقہ واریت پھیلانے میں امریکہ، اسرائیل، اور آل سعود کے ساتھ تعاون کرنے والی ترک حکومت سے علاقائی صورت حال پر بات چیت کرکے ترک حکام کو دشمنان اسلامی کی ننگی سازشوں کے پیش نظر اسلامی اتحاد کے قیام میں کردار ادا کرنے کی دعوت دیں۔