جس گھر میں شیعہ کہلانا جرم تھا، وہ شہادت کے درجے پر فائز ہو گیا، گھر والوں کو معلوم بھی نہ ہو سکا کہ وہ کب شیعہ ہوا؟

رپورٹ کے مطابق تکفیریوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے اصغریہ پروجیکٹ کے ڈپٹی ڈرایکٹر اور نیڈ کراچی یونیورسٹی میں تعینات لیکچرر محمد یوسف عرف منتظر مہدی جن کا تعلق دادو سے تھا۔ وہ ایک سُنی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور ان کے گھر میں شیعہ کہلانا جرم تھا۔ شہید کی نماز جنازہ بھی اہلسنت طریقے سے ادا کی گئی۔ اور کسی کو یہ تک معلوم نہ ہوا کہ جس شخص کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے وہ کس مرتبے اور منزلت پر فائز ہے؟ محمد یوسف 2004 میں مہران یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے گیا جہاں اس کی دوستی شیعہ نوجوانوں سے ہو گئی۔ اور اسی دوران وہ شیعہ ہوگیا اور اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنایزیشن میں کام کرنا شروع کیا مگر اس کے خاندان والوں کو آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ شیعہ ہے۔ سن 2006 میں مرکزی کابینہ میں جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوا اور 2008 میں شہید کو این ای ڈی میں جاب مل گئی۔ اصغریہ پروجیکٹ ایچ آر ڈی میں 2 سال پروجیکٹ ڈرایکٹر رہا جس کے بعد 2011 میں ڈپٹی ڈرایکٹر جنرل ہوا۔ شہید محمد یوسف عرف منتظر مہدی انتہائی مخلص اور متقی انسان تھے۔ جب کہ ان کے گھر سخت قسم کے متعصب سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ شہید کہتے ہوتے تھے کہ ان کے گھر میں شیعہ کا لفظ استعمال کرنا حرام تصور کیا جاتا ہے۔








