امریکہ اورسعودی عرب تعلقات: تندوتیز طوفانوں کے زد میں!چوتھی قسط:

14 اپریل, 2014 09:37

ahmad maliفرید ذکریا نے سعودی عرب کے خلاف کچھ زیادہ ہی بولا ہے لیکن امریکہ کے بڑے بڑے اخباروں میں لکھنے والے مختلف کالم نگاروں ، مبصروں نے سعودی خارجہ سیاست کے خلاف بہت زیادہ تنقیدکی ہے، اس ضمن میں ایک مشہور کالمFredKaplan نے شاہی تنگ دلی کے عنوان کے ذیل میں لکھا ہے کہ وہ اپنے مقالے کے مقدمے میں سعودی عرب میں اوباما رژیم کے اختلافات کو سعودی عرب کے دنیا میں کمزور ہونے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے کہ’’ اومابا کو سعودیوں کے لئے وضاحت کے ساتھ بتانا چاہئے کہ مشرق وسطیٰ میں ہم شاہی خاندان کے فرمانبردار بن کر ان کے حکم پر ہرگز چلنے والے نہیں ہیں‘‘ادھر Douge Bandowنے Hafarghton کی سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کے اوپر بڑی شدت کے ساتھ تنقید کی ہے۔موصوف ATO Instituteمیں ایک ریسرچ اسکالر ہیں اور Rgan Managmentکے سربراہ کے ساتھ بطور معاون خاص کام کرچکے ہیں، انہوں نے لکھا ہے کہ’’ سعودی عرب اس وقت امریکہ سے سخت ناراض ہے اس لئے کہ امریکی قیادت اس کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں خاطر خواہ مدد نہیں کررہی ہے‘‘۔
مقالہ نگار یہاں سعودیوں کے شام کے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کو بیان کرتا ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دراصل اس کے بس کی بات نہیں ہے! اگر امریکی صدر اس کے مراد سے نہ ہٹتے تو یہ سرخ لکیر کو کراس کرنا تھا جو خود اوباما نے کھینچا تھا Bandow یہ بھی یاد دلاتا ہے سعودی عرب کے شاہی خاندان نے سابق عراقی صدر صدام حسین کی مدد کر کے ایران کے خلاف جنگ کروائی تھی اور یہاں تک اس جنگ میں کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کروائے گئے تھے، جس کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ افراد کا خون بہایا گیا تھا‘‘وہ اس حوالے سے مختصر طور پر لکھتا ہے کہ’’ اتنی کثرت کے ساتھ لوگوں کا اس جنگ میں ذبح کیا جانا جس میں شاہی خاندان کی نظر میں صرف اور صرف ایران کے ایک شیعی نظام کو ختم کرنا تھا‘‘ جس قافلے کی رہنمائی سعودیوں نے کی وہ دراصل واشنگٹن کے حکم پر تعمیل کررہا تھا اور ان کے ہاں میں ہاں ملارہا تھا۔لیکن وہ اس میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے Bandowکہتا ہے ’’ کہ لیکن امریکیوں کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ سعودیوں کو ختم کرنے سے پریشان ہوجائے جو اس کے ہر حکم کے تابع ہے۔اس کے بدلے اوباما قیادت کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ امریکہ کے دیگر دوستوں سے واشنگٹن امریکی عوام کی مفادات کے لئے کام کرے نہ کہ ظالم وفاجر کی‘۔
Doug Bandow اپنے مضمون کے اختتام میں لکھتا ہے کہ ’’ صدر اوباما شاباشی کے حقدار ہیں کہ امریکی سیاست کو محدودکیا جائے تاکہ یہاں ریاض میں شاہی خاندان کو قدرے تشفی حاصل ہو۔ لیکن بعض اوقات تو واشنگٹن سعودیوں کو جنگ وجدل کا نیٹ ورک پھیلانے سے روک نہیں سکتا۔ اور یہ بات کبھی بھی مناسب نہیں لگتی کہ امریکہ سعودیوں کی منصوبے کو سپورٹ کرے‘‘۔
امریکہ کے مختلف متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی فہرست بہت لمبی ہے جو سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اپنے حلیف پر اعتراض کرنے والے ان کے سابقہ حکومتی اداروں میں کام کرنے والے ہیں ۔تاہم ان میں کچھ کا تعلق ڈیموکریٹ سے ہے ۔جو اوباما قیادت پر تنقید کرتے ہیں۔ مثلا kori Schakeوہ ہے جس نے پینٹاگون،نیشنل سکیورٹی کونسل اور وزارت خارجہ کے مختلف عہدوں پر کام کرچکی ہے۔ مزید یہ کہ موصوفہ ۲۰۰۸ء میں jean Makenکے ڈیموکریٹ پارٹی کی مضبوط امیدوار تھی۔ان کا مضمون Forgion Policyکے رسالے میں بعنوان: ’’سعودی خوش نصیب نہیں ہیں:کیا وجوہات ہیں؟‘‘Schake لکھتی ہے ’ لیکن یہ کہ سعودی خوش نصیب نہیں ہے امریکی سیاست کی غلطی پر ہونے کی یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ اوباما قیادت غلطی پر ہے لیکن اس کی سعودی عرب مذمت نہیں کرتا لہٰذا امریکی سیاسی گروہ سعودی عرب کو ساتھ رکھنے کے لئے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو کم سے کم نرم رکھنے کی کوشش کررہا ہے جسے اوباما رژیم نے بگاڑا تھا‘‘Schake اپنی بات کو مکمل کرتی ہوئی لکھتی ہے ’’ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ہماری کاروائیوں کے خلاف سوچتا ہے اور یہ کہ وہ جمہوریت کے خلاف ہیں وہ آزادی صحافت کو بھی نہیں مانتا ہے اوروہ قانون میں مساوات نسواں کے مخالف ہے وہ اس سوچ کو بھی نہیں مانتے کہ لوگوں کا ایک دوسرے پر حق ہے اور خاص طریقے سے ایک دوسرے کو قرضے وغیرہ دئیے جائیں جبکہ حکومتوں کو محدود مقاصد کے لئے دیا جائے وہ نہ صرف امریکی معاشرے میں اسلام کے عظیم اقدار کو نہیں مانتا ہے بلکہ انہوں نے متشدد جہادیوں کی مالی سپورٹ کی ہے‘‘۔سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ شام میں جہادیوں کی مدد کرے اور اسی طرح مصر میں مضبوط ایک حکومت لے آئے بعدازآں وہ چاہتا ہے کہ امریکہ اس ماڈل کو تمام خطے میں نافذ کرے‘‘۔
ان تمام احتمالات کو بیان کرنے بعد راقمہ ریاض اور اوباما قیادت کے اختلافات کی طرف اشارہ کرتی ہے پھر اوباما قیادت کو مشورہ دیتی ہے کہ’’ اگر اوباما سچائی کے ساتھ سرخ لکیر کھینچے تو وہ ان ممالک سے دست بردار ہوسکتا ہے جو امریکی امداد پراعتماد کرتے ہیں‘‘۔
امریکہ کے سامنے سعودی عرب کی ترجیحات:
اس وقت ریاض اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے ۔حقیقت حال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دو طرفین کے درمیان کمزور تعلقات ہیں۔اس حوالے سے سعودی عرب کی طرف سے کمزوری کچھ زیادہ ہے ۔ اب وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ اس کی شرائط پوری کرے پھر یہ کہ اس کی ترجیحات محدود ہیں۔اس حوالے سے بندر بن سلطان سے یہ بات منقول ہے کہ امریکہ سے تعلقات کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ اس کے بعد وہ واشنگٹن کے ساتھ نہیں چل سکتا ہے۔مزید یہ کہ سعودی عرب کے برطانیہ میں متعین سفیر امیر محمدبن نواف نے تویہاں تک دھمکی دی ہے جسے ۱۷ جنوری کے نیویارک ٹائم نے شائع کیا تھا۔کہ تما ترجیحات ان کے سامنے موجود ہیں اس طرح کی وضاحتیں باتوں کی حد تک ہیں۔ جو کبھی بھی قابل عمل نہیں ہوسکتا اس لئے کہ سعودی عرب کیلئے یہ بہت مشکل امر ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک طویل عرصے تک حلیف رہنے کے بعد اب اتنی آسانی سے یہ سب کچھ یو ں کرے کیونکہ اسے اس جیسا کوئی مضبوط حلیف ملک خطے میں نہیں مل سکتا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کی ترجیحات آخر کیا ہیں؟ چین،روس اور متحدہ یورپ اس وقت دنیا میں مضبوط ممالک ہیں ۔ان میں آخر الذکر میں ۲۸ممالک شامل ہیں ان میں ممکن برطانیہ اور فرانس زیادہ طاقت ور ہو۔
چین:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین کے ساتھ سعودی عرب کی تعلقات میں پچھلے آخری سالوں میں بہت ہی تیزی آئی ہے۔ کہ ۲۰۰۹ء سے سعودی تیل چین میں کافی گیا ہے جو امریکہ میں جانے والے روزانہ ۲۔۱ ملین بریل سے زیادہ ہے جو چین کے مجموعی تیل کے درآمدات کے ۲۱ فیصد بنتا ہے ۔ اور اسی طرح چینی پیداوار کابھی سعودی عرب کی مختلف مارکیٹوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ چینی کمپنیوں نے ہی مکہ مکرمہ میں حاجیوں کی نقل وحرکت کے لئے ریلوے پٹڑی بچھائی تھی۔لیکن سیاسی حوالے سے ریاض اور بیجینگ کے درمیان اقتصادی تعلقات میں کوئی خاص ترقی دیکھنے میں نہیں آتی ۔ اس لئے کہ احتمال ہے کہ خطے میں موجود شاہی بحران ان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئے تعلقات کو کمزور کریگا۔ جیساکہ چین کا صوبہ سینکیانگ میں جاری کشیدگی ہے جہاں چین میں سب سے زیادہ مسلمان بستے ہیں ۔ جو سعودیہ کے شاہی خاندان کی نظر میں چینی قیادت کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔دوسری جانب بیجنگ اور تہران کے درمیان مضبوط روابط بھی ریاض کے لئے باعث شک و پریشانی ہیں۔
روس:
چین کے مقابلے میں روس ایک تیل برآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کی تیل کے پیداوار ۲۰۱۳ء کے آواخر میں سعودی عرب کے پیداوار سے کئی گنا زیادہ ہو گیا ہے۔اس لئے کہ روس کی پیداوار ۳۸،۱۰ ملین بریل روازانہ ہے جبکہ سعودی عرب کی ۳۵.۹ ملین بریل روزانہ ہے۔پھر یہ کہ ماسکو اور ریاض کے درمیان اقتصادی تعلقات کوئی نئے اعتماد سے زیادہ مقابلے کاہے۔لیکن سعودی چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان تعلقات زیادہ بہتر رہے اور خاص طور سے سعودی چاہتا ہے کہ روس انہیں اسلحہ برآمد کرے اس حوالے سے گذشتہ سال ۲۰۱۳ء کو بندر بن سلطان نے ماسکو کا دو مرتبہ دورہ بھی کیا اسکے بعد عنقریب سعودی نائب وزیر دفاع سلیمان بن سلطان دوبارہ ماسکو جارہا ہے تاکہ روس کے ساتھ یتھیار کے معاملات طے پاسکیں، بعض رپورٹ کے مطابق سعودیہ روس سے ۲.۱ بلین ڈالر کا اسلحہ خریدے گا۔
اخبار Comersontنے حال ہی میں کرملین معاہدے کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی نے مصر کے لئے تقریبا ۲ بلین ڈالر کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ہاں سعودی قیادت ماسکو کا ساتھ کاٹنے کی سیاست پر یقین کرتا ہے تو شاید وہ دمشق کے حوالے سے ورغلانے میں کامیاب ہو۔ لیکن وہ ایک لمبی مدت تک دہشت گردی کی جنگ جو روسی مقاصد کی مدد کرتے رہے جسے ماسکو اور ریاض کے گہر ے تعلقات کو ختم کرنا مشکل ہے۔
فرانس اور برطانیہ:
اب فرانس اور برطانیہ ان کے ترجیحاات کے سرفہرست ہیں جس کا اظہار برطانیہ سعودیہ تعلقات کے مشیر نواف عبید نے کیا ہے اس لئے کہ یہ تعلقات پرانے ہیں اور اس لئے پیرس اور ریاض کے درمیان ہتھیار کے لین دین کا معاملہ بھی طے پایا ہے ۔
اس حوالے سے ابھی گزشتہ اکتوبر میں فرانسسی وزیر دفاع Jean Yves Le Drian نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا اور ان کے یہ اپنے ۲۰۱۲ء مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد تیسرا دورہ ہے ۔تاہم انہوں نے اپنے آخری دورے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا’’ کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان خطے کے بحرانوں کے حوالے سے نظریات ایک جیسے ہیں۔خاص طور سے ایرانی ایٹمی پلان اور شام کے بحرانوں کے حوالے سے دونوں کے نظریات متفق ہیں‘‘ ۔ابھی حال ہی میں فرانسسی پارلیمنٹ میں ہتھیار کے برآمدات کے حوالے سے پیش کئے گئے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی عرب فرانس سے ہتھیار خریدنے میں ۲۰۱۳ء تا۲۰۱۴ء کے درمیانی عرصے میں سرفہرست رہا ہے جو تقریبا ۷بلین یورو کی مالیت کا معاملہ کرکے انڈیا اور برازیل سے آگے نکل چکا ہے۔
سعودی امریکہ کے تعلقات کس رخ جارہے ہیں؟
سعودی عرب نے اپنی تمام تر کوشش کے مطابق امریکہ اور تما م دنیا کو اوباما قیادت اور اس کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے بارے میں اپنی ناراضگی کا پیغام پہنچانے کے بعد اب یہ سوال دہرایا ہے کہ آخر اس ناراضگی کی حدود کیا ہے؟ اور سعودی واشنگٹن سے کس حد تک دور جا سکتا ہے؟
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ سعودی عرب نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے لئے بلاواسطہ امریکی فوج کاساتھ دیا ۔اور شام پر تھوپی ہوئی جنگ جو بڑے مقاصد کا پیش خیمہ ہے۔جو سعودی عرب نے ایران کے خلاف بنایا ہوامنصوبہ ہے جہاں ہمیشہ اس منصوبے میں سعودی عرب نے امریکہ کی مدد کی ہے۔ اس لئے کہ واحد امریکہ تو ایران کے خلاف قیام کر نے کی جرأت کبھی بھی نہیں کرسکتا۔اور اس تلخ حقیقت کا احساس کرتے ہوئے سابق وزیر دفاعRobert Gate نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ’’ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کرے‘‘۔لیکن اس ایٹمی معاہدے پر یورپی ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والے وقتی دستخط نے سعودیوں کے سامنے نہایت ہی برا سیناریو پیش کیا ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ خوف محسوس کررہا ہے۔کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امریکہ اور ایران قریب آئے جو ۱۹۷۹ء سے اسلامی انقلاب کے قیام سے دور ہو چکے ہیں ۔جس کی وجہ سے سعودی عرب کو خلیج میں کھلنے کا ایک بہترین موقع ہاتھ آیا ہوا ہے لیکن اس میں وہ خطے کے توازن کی فضا کو برقرار نہیں رکھ پارہا۔۷۰ کی دہائی سے پہلے ایران خلیجی ممالک میں امریکہ کا مضبوط حامی تھا جو اس وقت سعودیہ کا امریکہ ساتھ ایک چھوٹا شریک کار بن کے بیٹھا ہوا ہے۔
جاری ہے۔

ڈاکٹراحمد ملی 
شعبہ بین الاقوامی سیاسیات لبنان یونیور سٹی،لبنان

8:38 صبح اپریل 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔