مشرکین سے برائت، حج ابراہیمی کی ضرورت
حج ابراہیمی کے اعمال و مناسک میں سے ایک ، مشرکین سے برائت ہے ۔ مشرکین سے برائت ، حج کاسیاسی مظاہرہ ہے ۔ اس طرح سے مسلمانوں کےاس عظیم اجتماع میں اسلام کے سیاسی چہرے کا بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ۔ بالفاظ دیگر حج ، عقائد و احکام اسلام کا مرکز اور مختلف میدانوں میں انسان کی زندگي کے نظم ونسق سے متعلق ایک مجموعی پالیسی کا غماز ہے ۔ بانی انقلاب اسلامی ایران اور حج کے موسم میں برائت از مشرکین کے عملی مظاہرے کو احیاء کرنے والے حضرت امام خمینی (رح) اس کے بارے میں فرماتے ہیں ۔ حج کا ایک عظیم فلسفہ اس کا سیاسی پہلو ہے جسے مٹانے کے لئے ہر جانب سے جارحین اقدامات کر رہے ہیں اور ان سازشوں سے افسوس کہ بہت سے مسلمان بھی متاثر ہوئے ہیں اور وہ حج کو محض ایک خشک عبادت سمجھتے ہیں کہ جس میں مسلمانوں کی مصلحتوں پر کوئی توجہ نہ دی گئی ہو ۔
حضرت امام خمینی (رح) حج کے سیاسی پہلو کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ جب سے حج وجود میں آيا ہے اسی وقت سے اس کا سیاسی پہلو اس کے عبادی پہلوں سے کم نہیں ہے ۔ حج کا سیاسی پہلو، سیاسی ہونے کے علاوہ خود ایک عبادت ہے۔ اس لئے اگر مسلمانوں کا یہ عظیم اجتماع اس فلسفے کا حامل نہ ہوتا تو یاتو اس کا کوئی فلسفہ نہ ہوتا یا پھر ضرورت ہی نہیں تھی کہ دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ مکہ میں اکٹھا ہوں ۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای اس امر پر تاکید فرماتے ہیں کہ یہ عظیم اجتماع حضرت ابرہیم اور حضرت محمد صلوات اللہ علیھما کی بت شکنی کا تسلسل ہے اور یہی اس کا سیاسی فلسفہ ہے ۔ حضرت امام خمینی (رح) حقیقی اسلام کا احیاء کرنے والے ہیں اور آپ کے تمام ارشادات اور افکارو نظریات ، قرآن کریم کی تعلیمات اورحضرت محمد مصطفے (ص) اور آپ کے اہل بیت کی سنت و سیرت سے ماخوذ ہیں ۔
حضرت امام خمینی ( رح ) نے حج میں برائت از مشرکین کی انجام دہی پر جو تاکید ہے وہ قرآن اور سنت پیغمبر اعظم (ص) کی روسے ہے ۔ قرآن کی تعبیرمیں برائت کے معنی بیزاری اور مشرکوں اور دشمنان اسلام سے اجتناب اور ان سے قطع تعلق کرنا ہے ۔ قرآن میں شرک اورمشرکوں کی مذمت کے علاوہ ان سے قطع روابط اور ان کے ساتھ سخت مقابلے کو بیان کیا گیا ہے ۔ انبیاء علیھم السلام کی مشرکوں سے برائت اور شرک سے بیزاری کا متعدد قرآنی آیات میں ذکر ملتا ہے ۔ کوئی بھی کمال ، حقیقی توحید کی طرف رجحان سے بالاتر نہیں ہے اور حقیقی توحید کا رجحان ہر قسم کےشرک و الحاد اور مشرکین و محلحدین سے نفرت و بیزاری کے بغیر میسر نہیں ہے ۔ اس بناء پر خدائے کعبہ نے اپنے اس گھر کو جو خانۂ توحید ہے ہر برائي سے بیزاری کا محور قرار دیا ہے اوراپنے خلیل حضرت ابراہیم (ع) سے سورۂ حج کی آيات 27 اور 28 ميں اس طرح فرمایا ہے" اور لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کردو کہ لوگ تمہاری طرف پیدل اور لاغر سواریوں پر درو دراز علاقوں سے سوار ہوکر آئيں ۔ تاکہ اپنے منافع کامشاہدہ کریں اور چند معین دنوں میں ان چوپایوں پر جو خدا نے بطور رزق عطا کئے ہیں خدا کا نام لیں ۔
جب دنیا کے لوگ مغرب و مشرق اور جنوب و شمال کے دور و نزدیک علاقوں سے آئیں اور عالمی عظیم اجتماع میں شرکت کریں تو اس وقت برائت محمدی کا اعلان کیا جائے ۔ اسی بناء پر سورۂ توبہ کی تیسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے ” اور اللہ و رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن انسانوں کے لئے اعلان عام ہے کہ اللہ و رسول دونوں مشرکین سے بیزار ہیں ۔ اس سے قبل کا اعلان ، دوسرے اعلان یعنی مشرکین سے اظہار بیزاری کے حالات سازگار بنانے کے لئےتھا ۔ بالفاظ دیگر توحید تک رسائی ، خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے برائت اور دوری اختیار کرنےسے حاصل ہوتی ہے ۔ انسان جب تک اس زمین پر زندگي گذار رہا ہے اس کے ذمے حج واجب ہے اور جب تک مشرک دنیامیں ہے اس سے نفرت و بیزاری بھی حج کے اہم ترین فرائض میں سے ہے ۔
آج امت مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے گھر کو ہر قسم کی برائی اور نجاست و پلیدگي سے پاک رکھیں ۔ البتہ اس سے مراد صرف مشرک شخص اور اس کا مادی بدن مراد نہیں ہے کہ کہا جائے کہ موجودہ حجاز میں جب مشرکین نہیں ہیں تو پھر ان سے کیا برائت کی جائے ۔ نہیں ، بلکہ برائت اور بیزاری کرنے سے مراد ، مشرکین کے شرک آمیز نظریات اور غلط تہذیب ، ملحدین کے ظالمانہ استعماری عزائم اور مستکبر طاقتوں کے جارحانہ استحصال سے نفرت و بیزاری کا اعلان ہے ۔ حج اس برائت کی اہم ترین جلوہ گاہ ہے ۔ مسلمانوں کو ان مراسم میں چاہیئے کہ خداوند عالم کی حرمت کا لحاظ کریں اور خدا کی عزت و جلالت سے تمسک اختیار کرکے سربلند ہونے کے لئے کوشاں ہوں اور اس کی قوت سے خود کو تقویت پہنچائيں اور اس کی ، توانائی اور طاقت حاصل کریں اور اپنے وجود کو اخلاق الہی سے آراستہ کریں ۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای عصر حاضر میں برائت از مشرکین کے بارے میں فرماتے ہيں ” شرک ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا اور بت کا بھی ہمیشہ لکڑی ، پتھر اور تانبے کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔ خانۂ خدا کی زیارت اور حج کرنے والوں کو تمام زمانوں میں اس وقت کے مخصوص لباس میں موجود شرک کو ، اس کے مخصوص جلوے کے ساتھ پہچانتے ہوئے ان کا انکار کرنا چاہئے ۔ آج اگرچہ مشرکین قریش کے بتوں ، لات وعزی اور منات کا وجود نہیں ہے لیکن اس کی جگہ اس سے خطرناک بتوں نے یعنی استکباری طاقتوں کے زور و زر اور جاہلی و استکباری طاقتوں نے لے لی ہے جس نے اسلامی ملکوں میں مسلمانوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے خانۂ خدا کا طواف کرنے والوں کو شرک کے مظاہر کی نفی کرنی چاہئے ۔ حج کا یہ مفہوم بہت واضح ہے کہ اسے برائت مشرکین کے لئےبہترین جگہ جانا گیا ہے اور خداوند عالم نے اپنی اور اپنے نبی کی زبان سے مشرکین سے برائت کے اعلان کو حج اکبر کے موقع پر انجام دینے کا حکم دیا ہے ” ۔
مشرکین سےبرائت کے اہم مسئلے میں ، شرک اور ستم کے حقیقی مصادیق کی شناخت اہم مسئلہ ہے ۔ عصر حاضر میں عالم اسلام کا ایک اہم مسئلہ ، دشمن کی شناخت ہے ۔ افسوس کہ اس مسئلے میں سستی اورکاہلی ، مسلمانوں کے درمیان ناقابل تلافی مسائل میں وجود آنے کا باعث بنی ہے ۔ 27 سال قبل مختلف ملکوں کے زائرین خاص طور پر ایرانی زائرین کا ایک عظیم اجتماع مکہ مکرمہ میں برائت مشرکین کے فریضۂ الہی کو انجام دینے کے غرض سے اکٹھا ہوا تھا تاہم سعودی حکام کی عدم بصیرت اس بات کا باعث بنی کہ اس اتحاد آفریں اور استکبار مخالف اقدام کی حمایت کے بجائے انہوں نے زائرین خانۂ خدا کو خاک و خون میں غلطاں کرنے کا حکم دے دیا ۔ تکفیری گروہوں کے ہاتھوں شام کے مسلمانوں کا قتل عام اور مسلمانوں کےحقیقی دشمن اور امت مسلمہ کو لاحق سب سے بڑے خطرے یعنی اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں سے غفلت ، دشمن شناسی کی اہمیت پر ایک اور گواہ ہے ۔
حج کے موسم میں مشرکین سے برائت ، دشمن شناسی اور دشمنوں کی دھمکیوں کی شناخت کے لئے بہترین موقع اور جگہ ہے ۔ ساری دنیا کے مسلمان اس عظیم فریضے کی ادائیگي کے لئے مکہ میں اکٹھا ہوتے ہیں یہ لاکھوں افراد خود اپنے اپنے ملکوں کے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے نمائندہ ہوتے ہیں جو حج کے نتائج کے پیغام رساں ہیں ۔ حج کی عالمی کانفرنس مسلمانوں کے لئے ایک عظیم موقع ہے تاکہ کسی واسطے کے بغیر اقوام عالم ، عالم اسلام کے حقائق کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں ۔ اسلام دشمنوں نے اسلامی بیداری کی تحریک میں انحراف پیدا کرنے کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے وہ اس کوشش میں ہیں کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانوں کو دست بگریباں کردیں ۔
حج مسلمانوں میں وحدت و اتحاد کو ظاہر کرنے کا بہترین موقع ہے اور اس حقیقت پر تاکید ہےکہ مسلمانوں کے باہمی مشترکہ اقدار ان کے باہمی اختلافات سے بہت زیادہ ہیں ۔ افسوس کہ بعض سلفی دھڑے اسلام کی پر امن اور حریت پسندانہ انسانی تعلیمات سے انحرافی اور غلط نتائج اخذ کرکے امریکہ اور صہیونی حکومت کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان کے آلۂ کار مین تبدیل ہوگئے ہیں ۔ اب جبکہ صہیونی حکومت اور اس کے مغربی حامی حقیقی مشرک ہیں اس لئے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان سے موسم حج میں برائت کا اظہار کریں ۔