اسیران کی کہانی، میری زبانی

31 جولائی, 2012 22:13

کیا ہم ان ہستیوں کے پیروکار ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے، جو خود بھوکے ہوتے تھے اور اپنے حصہ کا کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو دے دیتے shiitenews shiaتھے۔؟ کیا ہماری ذات میں سیرت اہلبیت (ع) کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے۔؟ رہبران ملت کا دعویٰ سر آنکھوں پر کہ لوگ ان کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں۔ مگر کیا قوم بھی یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ شہداء کے گھروں کی کفالت کس کی ذمہ داری ہے۔؟ اسیروں کے خانوادوں کی مدد اور مقدمات کی پیروی کس کا کام ہے۔؟
ہاتھ میں خورد و نوش کا کچھ سامان اور روٹی کا ڈبہ لیے کیمپ جیل کے باہر کھڑی یہ مستور اتنی ہی پریشان لگ رہی تھی جیسے چڑیا گھر میں نیا آنے والا جانور، میں چونکہ ’’عادی ملاقاتی‘‘ تھا اس لیے فکر ناٹ والی کیفیت تھی۔ بدھ کا دن صرف اسیران امامیہ کی ملاقات کے لیے مخصوص تھا۔ میں ہر بدھ آفس سے شارٹ بریک لیتا اور کھانے پینے کی چیزیں لے کر جیل پہنچ جاتا۔ یہ میرا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا۔

ملاقاتی آئے تو میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ یہ شریف زادی مولانا غلام حسین نجفی شہید کی بیٹی تھی۔ نجفی صاحب کی تین بیٹیاں تھیں، جو ملاقات پر آتی اور کھانا پہنچاتی تھیں، جبکہ نجفی صاحب عالم دین، مصنف، مناظر اور جامعۃ المنتظر کے وائس پرنسپل بھی تھے۔ ان کا جرم سپاہ صحابہ کی کتابوں کے جواب لکھنا تھا۔ نجفی صاحب کی گرفتاری شہباز شریف کے خصوصی حکم پر عمل میں آئی تھی اور اس کے لیے جامعۃ المنتظر پر باقاعدہ پولیس ریڈ کیا گیا تھا۔ وزیراعلٰی (جنہوں نے اس وقت خادم اعلٰی کا لقب اختیار نہیں کیا تھا)، کا بیان آن دی ریکارڈ ہے کہ ’’غلام حسین نجفی اور ملک اسحاق کو کسی صورت رہا نہیں کریں گے۔‘‘

ملک اسحاق کو تو خادم اعلٰی صاحب نے نہ صرف ’’آزاد عدلیہ” کے ذریعے رہا کروایا بلکہ سرکاری پروٹوکول میں فرقہ واریت پھیلانے کی مکمل آزادی دی۔ ایک طرف لاہور میں دہشتگرد تیار کئے جاتے اور کراچی سے کوئٹہ تک ایکسپورٹ کئے جاتے ہیں، جبکہ غلام حسین نجفی صاحب کو اس مظلومیت سے شہید کیا گیا کہ باپ بیٹی دونوں کو گولیاں لگیں۔ زخمی بیٹی زخمی باپ کو زندہ لیکر ہسپتال پہنچ گئی۔ مگر نہیں معلوم کہ خادم اعلٰی کا خوف تھا یا دہشت گردوں کا، انتظامیہ نے علاج سے انکار کر دیا۔

مجھے مولانا غلام رضا نقوی کا بھانجا محمد علی بھی نہیں بھولتا نہ ہی اسکی انکھوں کے آنسو۔ میں نے پوچھا ’’کیوں جیل سے گھبرا گئے، کہنے لگا نہیں جیل سے نہیں گھبرایا، روتا اس لیے ہوں کہ میری بیٹیوں کو کوئی دودھ کے لیے بھی پیسے نہیں دے گا۔ سچ کہتا تھا وہ۔ چودہ برس ہوگئے اس غریب سید کو زندان میں۔ بیٹیاں کم سن تھیں تو دودھ کو ترستی رہیں۔ کچھ بڑی ہوئیں تو سکول کو اب شادی کی عمر ہے تو جہیز کو ترسیں گی۔ خود سید غلام رضا نقوی صاحب 16 سال سے پس زندان ہیں، فالج زدہ بدن بیڑیوں میں جکڑا ہے، ’’آزاد عدلیہ‘‘ ان کا کیس سننے کو بھی تیار نہیں۔

ساقی شاہ اور لیاقت جعفری کو 1992ء میں جھنگ کے ایک مقدمہ میں بے گناہ ملوث کیا گیا، جبکہ ساقی شاہ کی عمر اس وقت صرف 17سال تھی۔ دنیا کی کوئی عدالت نابالغ کو سزائے موت نہیں دیتی، لیکن ان دونوں بے گناہوں کو موت کی سزا سنائی گئی۔ 20سال سے پس زندان ہیں۔ حال ہی میں جناب افتخار چوہدری کی عدالت میں اپیل کی گئی جو بڑی ’’خوبصورت دلیل‘‘ کے ساتھ مسترد کردی گئی کہ ’’ہماری عدالت‘‘ فرقہ ورانہ کیس میں کسی کو بھی بری نہیں کرتی۔

جبکہ عدالت کے مقدس نام پر ہی ’’چوہدری کورٹ‘‘ 100۔ 100 افراد کے قاتل بدترین دہشتگردوں کو نہ صرف رہا کرتی ہے، بلکہ حکومت کو ان کے اہل خانہ کی کفالت کا حکم بھی صادر کرتی ہے۔ اسی طرح لال مسجد آپریشن میں مارے جانیوالے افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ دلانے کا حکم بھی مرکزی حکومت کو صادر کرتی ہے اور انکار پر ’’توہین عدالت‘‘ کی دھمکی دیتی ہے۔

1990ء سے اب تک تقریباً پندرہ ہزار 15000 اہل تشیع کو شہید کیا گیا۔ کسی ایک قاتل کو سزا نہیں دی گئی۔ وہ کونسی قوت ہے جو ان قاتلوں کو عدالتوں سے آزاد کرواتی ہے اور جیلوں سے بھگا لے جاتی ہے۔ گذشتہ 22سال میں فرقہ ورانہ کیسوں میں صرف دو افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا اور دونوں کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔ شہید شہزاد علی اور شہید محرم علی۔ محرم علی گرفتار ہوا، رہبران ملت نے میڈیا میں آکر ’’اطمینان کا اظہار‘‘ فرمایا۔ جنہیں یاد ہو۔ پھانسی پر جھولنے سے پہلے یہ غازی کن کے بارے میں کہہ گیا تھا ’’وہ غدار ملت ہیں، میرے جنازے میں شریک مت ہوں۔‘‘

آج پاکستان کا ہر شیعہ مذہبی اسیر اپنے ورثاء کے خانہ میں ایک لفظ لکھتا ہے ’’لاوارث”۔ یہ لفظ ایک طمانچہ ہے رہبران قوم اور پوری شیعہ ملت کے لئے۔ آپ پاکستان بھر کے نادار شہداء اور اسیران کا ڈیٹا جمع کریں، یہ تعداد 5000 سے زیادہ نہیں بنتی۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام نہیں؟ پانچ کروڑ کی ملت اور 5000 شہیدوں اور زندہ شہیدوں (اسیران) کی کفالت نہ کرسکی۔

کیا ہم ان ہستیوں کے پیروکار ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے، جو خود بھوکے ہوتے تھے اور اپنے حصہ کا کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو دے دیتے تھے۔؟ کیا ہماری ذات میں سیرت اہلبیت (ع) کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے۔؟ رہبران ملت کا دعویٰ سر آنکھوں پر کہ لوگ ان کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں۔ مگر کیا قوم بھی یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ شہداء کے گھروں کی کفالت کس کی ذمہ داری ہے۔؟
اسیروں کے خانوادوں کی مدد اور مقدمات کی پیروی کس کا کام ہے۔؟

رہبران قوم کا طرز زندگی دیکھتا ہوں تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ انواع و اقسام کے کھانے، بہترین لباس، پجیرو گاڑیاں، عالیشان مکانات، کیڈٹ کالجز اور روٹس سکولز میں پڑھتے بچے۔ رب اپنے فضل میں مزید اضافہ کرے۔ شہداء اور اسیران ملت کے گھروں سے العطش العطش، الجوع الجوع کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ آفرین کہ ہم نے کان ہی بند کرلیے ہیں۔ 50ملین آبادی کی اس ملت میں کیا 5ہزار پیروکاران عباس علمدار (ع) نہیں، جو مشکیں اٹھائیں اور ملت کے ان محسنوں کے خانوادوں کی کفالت کا بیڑا اٹھا سکیں۔
بنت رسول (س) آپ کی شفاعت کی ضامن ہوں گی۔ انشاءاللہ

7:43 شام مارچ 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔