بحرین میں شیعہ علماء پر مالی مقدمات اور جو سینٹرل جیل میں 133 قیدیوں کی بھوک ہڑتال

20 اکتوبر, 2026 18:17

شیعیت نیوز : بحرین میں زیرِ حراست شیعہ علمائے دین کے خلاف بے بنیاد مالی مقدمات اور جو سینٹرل جیل میں سیاسی قیدیوں کی بھوک ہڑتال نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مذہبی آزادی سلب کیے جانے کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، بحرینی حکام نے شیعہ علماء پر مبینہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر ملکی روابط کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم مالی ریکارڈ کے تجزیے سے کسی مجرمانہ سرگرمی کے شواہد نہیں ملے۔ حکام نے معمول کی رقوم کی منتقلی کو غلط کاری کا ثبوت قرار دیا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ رقوم خمس (مذہبی واجبات)، تبلیغ و تدریس کے معاوضے اور مستحقین کی امداد پر مبنی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان کے وسائل پر امریکی نظریں اور 20 ممکنہ خطرات

دوسری جانب، بحرین کی بدنامِ زمانہ جو سینٹرل جیل میں بھوک ہڑتال تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، جس میں اب تک 133 سیاسی قیدی شامل ہو چکے ہیں۔ بلڈنگ نمبر 2 میں مزید 40 قیدیوں کی شمولیت کے بعد یہ احتجاج سیکشن 2، 3، 4، 5 اور 6 تک پھیل گیا ہے۔ قیدیوں نے مبینہ بدسلوکی، حراست کے بگڑتے حالات اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پچھلے 14 روز سے کھانا پینا ترک کر رکھا ہے۔

ان کے بنیادی مطالبات میں وقار کو مجروح کرنے والے اقدامات کا خاتمہ اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ قیدیوں کے اہلِ خانہ نے اپنے پیاروں کی گرتی ہوئی صحت کا ذمہ دار بحرینی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام فوری طور پر قیدیوں کے جائز مطالبات تسلیم کریں اور شیعہ علماء کے خلاف شفاف کارروائی کو یقینی بنائیں۔

7:16 شام اکتوبر 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔