شیطان باطل کو خوبصورت اور حق کو بدصورت بنا کر پیش کرتا ہے، استاد علی رضا پناہیان
استاد علی رضا پناہیان
شیعیت نیوز : ممتاز عالمِ دین اور حوزہ و یونیورسٹی کے استاد حجت الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے معروف ٹیلی ویژن پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے معاشرے کی فکری اور ثقافتی رہنمائی میں ’خوبصورتی‘ کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شیطان اور دشمن کی نفسیاتی و فکری جنگ کا ایک بڑا ہتھکنڈا یہ ہے کہ وہ معاشرے میں غلط رویوں اور باطل کو خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ الٰہی حقائق اور اقدار کو بدصورت ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں بارہا اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان کی نگاہ میں غلط اعمال کو آراستہ کر دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسان بسا اوقات اپنے غلط انتخاب کو بالکل درست اور منطقی سمجھنے لگتا ہے اور یہ خطرناک سوچ دراصل اس کے ذہن پر بیرونی عوامل کے اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سیرتِ زہراؑ کو معاشرے میں عام کرنے کی ضرورت ہے، آیت اللہ اعرافی
استاد پناہیان نے واضح کیا کہ باطل محاذ صرف نظریاتی اختلاف نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے اذہان میں خوبصورتی اور بدصورتی کے معیار ہی تبدیل کر دیتا ہے۔ سورۂ حجرات کی آیت 7 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایمان کو دلوں میں محبوب اور آراستہ کرتا ہے جبکہ کفر، فسق اور گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔ جس طرح انسان حافظ یا فردوسی کے کلام کے تمام معانی سمجھے بغیر اس کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتا ہے، بالکل اسی طرح قرآن کے تمام معنوی لطائف سمجھے بغیر بھی اس کا حسن انسان کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔
دین کے مبلغین کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ دین کی تبلیغ کے لیے ہمیں قرآن کے اس اسلوب کو اپنانا چاہیے۔ صرف خشک منطقی دلائل کے ذریعے حقائق کو ثابت کرنے پر اکتفا کرنے کے بجائے دینی حقائق کی خوبصورتی اور دلکشی کو مخاطب کے سامنے آشکار کیا جائے۔ اگر حق کو اس کے حقیقی حسن اور دلنشین انداز کے ساتھ پیش کیا جائے، تو معاشرہ خود بخود اس سے گہرا تعلق استوار کر لے گا۔







