مغربی ایشیا میں غیر ملکی افواج کی جگہ نہیں ہوگی، ایرانی وزیر خارجہ
سید عباس عراقچی
شیعیت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت نے خطے میں ایک نئے علاقائی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے، جس کے تحت اب مغربی ایشیا میں غیر ملکی افواج کی موجودگی یا ان کی کسی بھی قسم کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق، اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے کہا کہ خطے میں موجودہ کشیدگی ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت کا براہ راست نتیجہ ہے، تاہم ایرانی قوم کی جدوجہد، بھرپور مزاحمت اور ثابت قدمی نے جارحین کے تمام مذموم مقاصد کو مٹی میں ملا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہم بہت جلد امریکی افواج کے اصل جانی نقصانات کو بے نقاب کریں گے، ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی امریکہ کی جانب سے بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران ان رکاوٹوں کے باوجود خطے میں پائیدار امن و استحکام کی بحالی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
سید عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ایرانی قوم کے ناقابلِ تردید حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں بلا تعطل جاری رکھے گا۔ خطے میں سکون اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات کی بحالی ایران کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اسی تعمیری مقصد کے تحت ایران نے خطے کے ممالک کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی کھلی امریکی اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے پر چین کے اصولی مؤقف کی تعریف کی۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے غلط استعمال کو روکنے کے حوالے سے بیجنگ کے ذمہ دارانہ اور تعمیری طرزِ عمل کو بھی شاندار الفاظ میں سراہا۔







