شہادت امام خامنہ ای کی دیرینہ آرزو تھی، جو آخرکار پوری ہو گئی، سربراہ عالمی انجمنِ علمائے مقاومت شیخ ماہر حمود

04 جولائی, 2026 16:17

شیعیت نیوز : عالمی انجمنِ علمائے مقاومت کے سربراہ شیخ ماہر حمود نے امامِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنی طویل رفاقت، ملاقاتوں اور خط و کتابت کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اس عظیم قائد کی ثابت قدمی، اصول پسندی، وحدتِ امت کے لیے ان کی بے مثال کاوشوں اور غاصب صیہونی استعمار کے خلاف ان کی مسلسل جدوجہد پر روشنی ڈالی ہے۔

شیخ ماہر حمود نے کہا کہ امام شہید سید علی خامنہ ای ایک ایسے رہبر تھے جن کی شخصیت دینی بصیرت، سیاسی حکمت اور روحِ مقاومت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی پوری زندگی اسلام کی اصیل تعلیمات کے تحفظ، مستضعفینِ عالم کی حمایت، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عزتِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔ مختلف اسلامی مکاتبِ فکر، مذاہب اور ادیان کے ساتھ آپ کا احترام، کشادہ نظری اور وحدت آفرین طرزِ فکر آج بھی اہلِ بصیرت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

پہلی ملاقات اور اصولوں پر استقامت ان کی امام خامنہ ای سے پہلی ملاقات 1981ء میں ہوئی جب آپ اسلامی جمہوری پارٹی کے سربراہ اور تہران کے امام جمعہ تھے۔ فلسطینی وفد کے ہمراہ تقریباً تین گھنٹے کی طویل نشست میں انقلاب اسلامی کی حکمت عملی، عالمی اتحادوں اور دشمن کی سازشوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شیخ حمود کے مطابق امام شہید نے جو اصول بیان کیے تھے، وہ شہادت تک ان پر قائم رہے اور ذرہ برابر لغزش نہیں آئی۔

ثابت قدمی رہبر کی پہچان شیخ ماہر حمود نے زور دیا کہ امام خامنہ ای کی فکری استقامت اور اصولوں پر غیر متزلزل پختگی ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف تھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے انقلاب کو توسیع پسندانہ قرار دینے کی کوشش کی، مگر امام شہید نے اپنے اخلاص، حکمت اور عوام سے وفاداری سے تمام پروپیگنڈے بے اثر کر دیے۔

خط و کتابت اور مزاحمت کا پیغام ان کے مطابق امام خامنہ ای کے ساتھ صرف ملاقاتوں تک تعلق محدود نہیں تھا بلکہ مختلف موضوعات پر خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ 2015ء میں فلم "محمد رسول اللہ ﷺ” کے شرعی اشکالات پر بھی امام شہید کو خط لکھا گیا تھا جس کے بعد فلم کی نمائش روک دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : رہبر شہید کی تشییع جنازہ: نماز جنازہ 7 جولائی صبح 5 بجے مسجد مقدس جمکران میں

شیخ حمود نے ایک مکتوب کا ذکر کیا جس میں امام شہید نے غاصب صیہونی رژیم کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کی تلقین کی تھی اور واضح کیا تھا کہ مزاحمت صرف عسکری نہیں بلکہ فکری، ثقافتی، تعلیمی اور میڈیا کے محاذ بھی اسی قدر اہم ہیں۔

علمائے اہل سنت کے ساتھ تعلقات شیخ ماہر حمود (جو خود لبنانی سنی عالم ہیں) نے بتایا کہ امام خامنہ ای علمائے اہل سنت سے ملاقات اور مکالمے کے خواہاں رہتے تھے۔ بلوچستان، کردستان اور سعودی عرب کے متعدد علمائے اہل سنت ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے تھے اور امام ان سے احترام اور حسن اخلاق کے ساتھ پیش آتے تھے۔

شہادت؛ دیرینہ آرزو کی تکمیل شیخ حمود نے امام کا یہ جملہ نقل کیا:

"اسرائیلی مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ وہ مجھے شہید کرنا چاہتے ہیں… اگر اللہ تعالیٰ میری زندگی کا اختتام شہادت پر فرمائے تو یہ میرے لیے عظیم سعادت ہوگی، اور یہی میری دیرینہ آرزو ہے۔”

آخر میں شیخ ماہر حمود نے کہا کہ امام خامنہ ای آخرکار اپنی اسی دیرینہ آرزو تک پہنچ گئے اور ان کی پوری زندگی اسلام، امت اور مقاومت کی خدمت سے عبارت تھی جو شہادت جیسے باعظمت انجام پر منتج ہوئی۔

5:22 شام جولائی 4, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔