ایران کی برطانیہ اور فرانس کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز میں فوجی مداخلت کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہو
شیعیت نیوز : ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور قاسم غریب آبادی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری صرف ساحلی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔
غریب آبادی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز خطے سے باہر کی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ہے اور ایران بطور ذمہ دار طاقت اور ہرمز کی سیکیورٹی کا ضامن اس حساس آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف سخت وارننگ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ پرور عناصر اپنی مہم جوئی کے نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے اور یہ ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔
یہ بیان برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اس مشترکہ بیان کے جواب میں آیا جس میں دونوں نے آبنائے ہرمز میں نام نہاد کثیر القومی فوجی مشن تعینات کرنے کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: تہران میں شہید رہبر معظم کی الوداعی تقریب شروع، لاکھوں عزاداروں کا تاریخی سیلاب امڈ آیا
برطانیہ اور فرانس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمان نے ہرمز میں شپنگ کے خطرات کے خلاف ان کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم ایران نے اس پورے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں کے لیے اس وقت بند کیا جب امریکہ نے جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں اور جہازوں کی غیر قانونی ناکہ بندی جاری رکھی۔
ماہرین کے مطابق برطانیہ اور فرانس کا یہ اقدام امریکی ایجنڈے کی توسیع ہے اور ایران کی یہ سخت وارننگ واضح کرتی ہے کہ کوئی بھی یورپی فوجی مداخلت خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔







