شہادت کے قرآنی و معرفتی مبانی، شہید رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے ارشادات
شیعیت نیوز : ہم ان دنوں امامِ امت، رہبرِ انقلابِ اسلامی، سید الشہداء شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے مطہر پیکر کی تشییع کے ایام میں ہیں۔ اس موقع پر شہادت کے قرآنی و معرفتی مبانی کا ازسرِ نو مطالعہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
مکمل بیانات:
رہبر شہید نے فرمایا:
لوگوں کی خدمت کی راہ میں شہادت، الٰہی ابدی حیات ہے
ہمیں مصیبت کے مقابلے میں کس طرح رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ یہ نہایت اہم بات ہے۔
میں پہلے بھی اس عظیم سانحے (محترم صدرِ جمہوریہ اور ان کے رفقاء کی شہادت) کے بارے میں گفتگو کو اس نورانی آیتِ مبارکہ سے مزین کرنا چاہتا ہوں، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ”
"جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم اس حقیقت کا شعور نہیں رکھتے۔”
اس آیت کے اردگرد، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد، کسی فوجی کارروائی، جنگ، قتال یا اس جیسے موضوع کا ذکر نہیں ہے، بلکہ صرف "فی سبیل اللہ” فرمایا گیا ہے۔
یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں "اللہ کی راہ میں قتل ہونے” سے مراد صرف میدانِ جنگ میں قتل ہونا ہے، کیونکہ اس آیت میں اس بات کی کوئی دلیل یا قرینہ موجود نہیں۔
لوگوں کی خدمت کی راہ، اللہ کی راہ ہے۔ عوام کے لیے جہادی خدمت انجام دینا، اللہ کی راہ ہے۔ اسلامی ملک کا انتظام و انصرام کرنا، اللہ کی راہ ہے۔ اسلامی جمہوری نظام کی ترقی اور پیشرفت کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی راہ ہے۔
آیت اللہ رئیسی عزیز اور ان کے ساتھی ملک کی ترقی، عوام کی خدمت اور اسلامی جمہوریہ کی سربلندی کی راہ میں شہید ہوئے، لہٰذا وہ اس آیت کے مصداق ہیں۔ انہیں مردہ نہ سمجھو؛ "بل احیاء”، بلکہ وہ زندہ ہیں۔ یہی وہ تعبیر ہے جو قرآن نے شہداء کے بارے میں بیان فرمائی ہے۔ (14 خرداد 1403)
شہادت؛ خدا کے ساتھ ابدی جنت کے بدلے جان کا معاملہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ”
یعنی بے شک اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے؛ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پھر دشمن کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی شہید ہو جاتے ہیں۔
یہ سچا وعدہ تورات، انجیل اور قرآن، تینوں میں موجود ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:
"وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ”
"ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ہیں وہ مردہ ہیں، بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔”
شہادت عقیدے، شناخت اور الٰہی اقدار کی سرحدوں کا دفاع
شہادت کا مطلب صرف جنگ میں مارا جانا نہیں ہے۔ ہمارا شہید اس معنی میں دوسروں سے مختلف ہے۔ ہمارا مجاہد جب میدانِ جنگ میں قدم رکھتا ہے تو اس کا مقصد صرف جغرافیائی سرحدوں کا دفاع نہیں ہوتا بلکہ وہ عقیدے، اخلاق، دین، ثقافت اور اسلامی شناخت کی سرحدوں کے دفاع کے لیے جہاد کرتا ہے۔
شہادت الٰہی اقدار کا دفاع اور عہدِ الٰہی سے وفاداری
شہید اپنی جان کا خدا کے ساتھ سودا کرتا ہے اور یہی شہادت کی حقیقت ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
"مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ”
یعنی مؤمنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچائی کے ساتھ نبھایا۔
شہادت نظام کی بقا کی ضمانت اور رحمتِ الٰہی کا مظہر
اگر یہ شہادتیں نہ ہوتیں تو یہ نظام ہرگز باقی نہ رہتا۔ یہ شہداء کی قربانیوں، ایثار اور جذبۂ شہادت کی بدولت زندہ اور تناور درخت بنا ہوا ہے۔
دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے شہداء؛ دہشت گردی کی رسوائی اور ملتِ ایران کی استقامت
ہمارے ملک میں سترہ ہزار دہشت گردی کے شہداء ہیں۔ یہ قوم ان قربانیوں کے باوجود انقلاب کی خدمت اور دشمن کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔
شہادت ظاہری فقدان اور قربِ الٰہی کی طرف ابدی عروج
شہادت کا ظاہری پہلو جدائی اور محرومی ہے، مگر اس کی باطنی حقیقت بہت بلند ہے۔ شہید اچانک اللہ تعالیٰ کے بلند ترین درجات پر فائز ہو جاتا ہے۔
ثقافتِ ایثار و شہادت؛ معاشرے کی حرکت اور بیداری کا محرک
شہادت اور ایثار کا مسئلہ کبھی پرانا نہیں ہوتا؛ یہ معاشرے کی حرکت کا محرک اور اس کی زندگی کی روح ہے۔
شہادت سب سے بڑی فضیلت اور راہِ خدا میں ایثار کی بلند ترین منزل
تمام قوموں میں سب سے زیادہ عزت اسی کو دی جاتی ہے جو قربانی دیتا ہے۔ ہمارے ملک میں شہادت کو دینی لحاظ سے سب سے بلند فضیلت شمار کیا جاتا ہے۔







