ایران جنگ بندی کی پاسداری کرے گا، خلاف ورزی نہ ہوئی تو سفارت کاری جاری رہے گی: ایرانی قونصل جنرل
شیعیت نیوز: ایران کے قونصل جنرل مہران موحد فر نے واضح کیا ہے کہ اگر دوسرے فریق کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کی گئی تو ایران سفارت کاری کے راستے کو برقرار رکھے گا اور جنگ بندی نہیں توڑے گا۔
مہران موحد فر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پوری قوت کے ساتھ اپنی سلامتی اور قومی مفادات کا دفاع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی علاقوں اور ایران کے غیر فوجی بنیادی ڈھانچے پر فوجی جارحیت کے چالیس دن گزرنے اور برادر ملک پاکستان کی ثالثی سے متعدد پیغامات کے تبادلے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے جنگ بندی کے لیے دس نکاتی شرائط کا اعلان کیا، جنہیں امریکی صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ علی حسنین حسینی کی ہزار گنجی کے زخمیوں کی عیادت، مالی معاونت بھی فراہم
انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں اسرائیل اور امریکہ اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہ کر سکے۔ میناب میں اسکول پر حملے میں تقریباً 170 بچوں کی شہادت کو انہوں نے جنگی جرم قرار دیا، جبکہ 620 تعلیمی مقامات بشمول جامعات، تاریخی یادگاروں اور بنیادی ڈھانچے جیسے ہسپتالوں، پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی بھی مذمت کی۔
قونصل جنرل کے مطابق ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنی علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کیا اور جارحیت کے جواب میں عسکری اہداف اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، جس سے اسرائیل کے "مکمل تحفظ” کے تصور کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں رہا، تاہم اسے ماضی میں متعدد عسکری جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران عالمی برادری کا ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کا خیرمقدم کرتا آیا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی وفد نے پاکستان میں جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کی، تاہم امریکہ کی بار بار وعدہ خلافی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد موجود ہے۔
مہران موحد فر نے واضح کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیلی رجیم کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کی گئی تو ایران سفارت کاری جاری رکھے گا، تاہم ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کے جواب کے لیے مکمل تیار رہیں گی۔
انہوں نے پاکستان کی ثالثی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران نے تعمیری اور مثبت رویے کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کی، لیکن امریکہ اور اسرائیل غیر حقیقی مطالبات کے ذریعے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو وہ جنگ میں حاصل نہ کر سکے، جو ممکن نہیں۔
انہوں نے پاکستانی حکومت اور عوام کا مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ بھی ادا کیا۔







