ٹرمپ کی ایران کو ’پتھر کے دور‘ میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگ بندی کو آبنائے ہرمز سے مشروط

02 اپریل, 2026 09:05

شیعیت نیوز : واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام ایک بار پھر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ واشنگٹن صرف اس صورت میں جنگ بندی پر غور کرے گا جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی اور وہاں جہاز رانی کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک ایسا نہیں ہوتا، امریکا ایران پر اپنے حملے جاری رکھے گا اور اسے بمباری کے ذریعے ’پتھر کے دور‘ میں دھکیل دیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکا نے کسی ملک کو اتنی سنگین دھمکی دی ہو، تاہم ٹرمپ وہ پہلے صدر ہیں جنہوں نے پوری دنیا کے سامنے کھلے عام یہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ’پتھر کے دور میں دھکیلنے‘ کی یہ اصطلاح امریکی خارجہ پالیسی میں کافی پرانی ہے۔

نائن الیون حملوں کے بعد جب امریکا نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، تو اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’اِن دی لائن آف فائر‘ میں انکشاف کیا تھا کہ اس وقت کے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے پاکستان کو ایسی ہی دھمکی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی سفارتخانہ بغداد پر حملے متوقع !امریکی شہری عراق چھوڑ دیں، امریکی حکام

مشرف نے لکھا کہ آرمیٹیج نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا تھا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امریکا کے ساتھ ہے یا دہشت گردوں کے ساتھ، اور اگر پاکستان نے دہشت گردوں کا ساتھ دیا تو وہ ’پتھر کے دور میں پہنچا دیے جانے والے بموں‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

اگرچہ رچرڈ آرمیٹیج نے بعد میں ان مخصوص الفاظ کے استعمال کی تردید کی، لیکن انہوں نے یہ اعتراف ضرور کیا کہ ان کی بات چیت انتہائی سخت اور دو ٹوک تھی۔

اس مشہورِ زمانہ جملے کا آغاز دراصل دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی ایئر فورس کے افسر کرٹس لی مے سے ہوا تھا، جنہوں نے جاپان کے شہروں کو ملیا میٹ کرنے کے مشن کی نگرانی کی تھی۔

انہوں نے 1968 میں اپنی کتاب میں مشورہ دیا تھا کہ شمالی ویتنام کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بجائے وہاں کی فیکٹریوں، بندرگاہوں اور پلوں کو بموں سے اڑا کر انہیں ’پتھر کے دور‘ میں واپس بھیج دینا چاہیے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پتھر کا دور آخر تھا کیا؟

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ انسانی تاریخ کا وہ طویل ترین حصہ ہے جو تقریباً 34 لاکھ سال پر محیط ہے، جب انسان دھاتوں سے ناواقف تھا اور اوزار بنانے کے لیے صرف پتھروں کا استعمال کرتا تھا۔

پتھر کے دور کو تین بڑے حصوں یعنی قدیم، وسطی اور جدید دور میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

قدیم دور میں انسان شکاری تھا اور خوراک کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکتا رہتا تھا۔

وسطی دور میں انسان نے کتے پالنے اور جنگلی پودوں کی دیکھ بھال کے تجربات شروع کیے۔

جبکہ جدید پتھر کے دور میں سب سے بڑی تبدیلی آئی جب انسان نے خوراک جمع کرنے کے بجائے خود اگانا شروع کی اور مستقل گاؤں بسا لیے۔

اسی دور میں مٹی کے برتن، کپڑے کی بنائی اور پہیے کی ایجاد ہوئی جس نے انسانی زندگی کا رخ بدل دیا۔

آج جب صدر ٹرمپ ایران کو اسی دور میں واپس بھیجنے کی بات کر رہے ہیں، تو ان کا مقصد دراصل کسی ملک کے جدید انفراسٹرکچر، بجلی، مواصلات اور صنعتوں کو مکمل طور پر تباہ کر کے اسے ہزاروں سال پیچھے پہنچا دینا ہے۔

10:44 صبح اپریل 2, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔