ترلائی کلاں جامع مسجد قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ پر خودکش دہشتگردی کا المناک سانحہ، درجنوں شہید و زخمی، علامہ بشارت حسین امامی کا سخت ردعمل

06 فروری, 2026 12:56

شیعیت نیوز : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں جامع مسجد قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے اجتماع کے دوران خودکش دہشتگرد نے وحشیانہ حملہ کر دیا۔ دھماکے کے نتیجے میں درجنوں نمازی شہید اور متعدد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ مسجد کے اندر اور صحن میں لاشیں تڑپ رہی ہیں، منظر انتہائی دلخراش ہے۔

دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ریسکیو اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر پی ایم ایس، پولی کلینک اور سی ڈی اے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے ایمبولینس کے علاوہ اپنی ذاتی گاڑیوں سے بھی زخمیوں کی منتقلی میں تعاون کیا۔

اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ ہفتہ کو صبح 11 بجے ادا کی جائے گی۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سیکرٹری جنرل علامہ بشارت حسین امامی نے سانحے پر ابتدائی ردعمل میں کہا ہے کہ دارالحکومت میں سیکورٹی کی مخدوش صورتحال سے دہشت گردوں نے فائدہ اٹھایا۔

علامہ امامی نے مزید کہا: "سانحات و دہشت گردی ہمیں راہِ حسینیت سے نہیں ہٹا سکتی۔ ہم قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی پرامن پالیسی پر گامزن ہیں اور وطن کے خلاف ہر سازش کو خون دے کر ناکام کریں گے۔”

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور دہشت گردوں کا سراغ لگایا جائے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی ترلائی امام بارگاہ دھماکے پر شدید مذمت، نمازیوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ اور انسانیت سوز ہے

علامہ امامی نے سوال اٹھایا: "ازبک صدر کی اسلام آباد میں موجودگی میں ہائی سیکورٹی کا یہ حال ہے تو عام حالات میں ملک و قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ آقائے موسوی یہ سوال اٹھایا کرتے تھے کہ جب بھی کوئی اعلیٰ غیر ملکی شخصیت پاکستان آتی ہے تو دہشت گردی و دھماکوں کا ہونا سوالیہ نشان ہے؟”

انہوں نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کو اس سوال کا جواب دیں کہ کالعدم عناصر اور کالی بھیڑوں کو کیفر کردار تک کب پہنچایا جائے گا۔

علامہ بشارت حسین امامی نے زخمیوں کی طبی سہولیات کے لیے فوری انتظامات کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہداء کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا تو تحریک اپنا لائحہ عمل دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں درجن شہروں میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان نے دفاع وطن اور عساکر پاکستان کے ساتھ یومِ یکجہتی محافظین وطن منا کر قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

علامہ امامی نے نیشنل ایکشن پلان کو سرد خانے میں ڈالنے والوں کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ قوم کب تک اپنے پیاروں کے جنازے اٹھائے گی۔

انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔ ہم جلاو گھیراو والے نہیں نہ ہی آگ بھڑکانے والے ہیں، ہم آگ بجھانے اور اپنی جانیں دے کر وطن کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد و مکمل شفا عطا فرمائے اور پورے ملک کو اس طرح کے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

4:18 صبح مئی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔