ترلائی دھماکہ: ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کا گٹھ جوڑ، شیعہ خون کی تشنگی اب حد سے گزر گئی

06 فروری, 2026 11:27

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کی تفتیش سے خوفناک انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس گھناؤنے سانحے کی منصوبہ بندی میں کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے عناصر بھی براہ راست شریک تھے۔

یہ وہی گروہ ہیں جو دہائیوں سے شیعہ برادری کے خلاف نفرت، تکفیر اور خونریزی کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی بنیاد ہی شیعہ قتل اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا رہی ہے۔ آج بھی یہی گروہ چھپ کر، چھپے چھپے، ریاست کے اندر ریاست بنا کر شیعہ خون کی تشنگی بجھانے میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ْجامع مسجدخدیجتہ الکبریٰ ؑ ترلائی اسلام آباد خودکش بم دھماکہ، کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کے شواہد

یہ گھٹ جوڑ نہ صرف ایک حملہ ہے بلکہ ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد شیعہ برادری کو خوفزدہ کرنا، ان کی عبادت گاہوں کو تباہ کرنا اور ملک میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانا ہے۔

شہدا کی تعداد 24 اور زخمی 101 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ خون انہی تکفیری گروہوں کا ہے جو کبھی لشکر جھنگوی کے نام سے، کبھی سپاہ صحابہ کے نام سے اور کبھی TTP کے نام سے شیعہ قتل عام کرتے رہے ہیں۔

ریاست کو اب آنکھیں کھولنی ہوں گی۔ یہ گروہ ریاست کے اندر ریاست نہیں چلا سکتے۔ ان تکفیریوں، ان لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے باقی ماندہ نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ ان کی مالی معاونت، ان کی چھپنے کی جگہیں، ان کے ہتھیاروں کے ذخیرے — سب کچھ تباہ کیا جائے۔

شیعہ برادری خون کا بدلہ خون سے نہیں لیتی، لیکن یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

2:08 صبح مئی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔