جامع مسجدخدیجتہ الکبریٰ ؑ ترلائی اسلام آباد خودکش بم دھماکہ، کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کے شواہد

06 فروری, 2026 10:57

شیعیت نیوز: جامع مسجد وامام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ ؑ ترلائی اسلام آباد میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں ملک دشمن دہشت گرد تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کی اعلیٰ قیادت کے ملوث ہونے والےکے شواہد سامنے آگئے۔

ذرائع کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے مرکزی قائدین اور بدنام زمانہ دہشت گرد سرغنہ اورنگزیب فاروقی اور احمد لدھیانوی جامع مسجد وامام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ ؑ میں خودکش بم دھماکے کے وقت نذدیک ہی ایک جلسے میں شریک تھے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اورنگزیب فاروقی گذشتہ ایک ہفتے سے مسلسل اسلام آباد اور گرد ونواح کے علاقوں میں دورہ جات اور عوامی اجتماعات میں مصروف ہے۔

یہ بھی کہا جارہاہے کہ اورنگزیب فاروقی حسب سابق اپنی تقریروں میں مسلسل شیعیان حیدر کرار ؑ کے خلاف ہرزا سرائی بھی کررہا ہے، جس میں مکتب تشیع کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال اور دہشت گرد حملوں کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ترلائی دھماکہ اپ ڈیٹ: پولی کلینک میں 8–12 زخمی، پی ایم ایس میں 25 زخمی اور 12 شہید، ہسپتالوں میں ایمرجنسی

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی ایک دہشت گرد تنظیم جس کے ہاتھ 80 ہزار بے گناہ پاکستانیوں کے لہو سے رنگین ہیں وہ کس کی اجازت سے وفاقی دارالحکومت میں آزادانہ جلسے جلوس کررہی ہے ۔

وہ تنظیم کس قانون کے تحت ایک پاکستان کی دوسری غالب اکثریت فقہ جعفری کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کررہی ہے، کس نے انہیں شیعیان حیدر کرارؑ کو دھمکیاں دینے کی اجازت دی ہے؟؟؟ یہ سوال 8 کروڑ پاکستانی شیعہ موجودہ حکومت سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔

3:12 صبح مئی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔