ترکی، مصر اور قطر کی تجویز: ایران تین سال افزودگی روکے، مزاحمتی گروہوں کو اسلحہ بند کرے
شیعیت نیوز : بریکنگ نیوز: الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترکی، مصر اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس معاہدے کے خاکے پر اس جمعہ کو مسقط میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی، مصر اور قطر: حماس معاہدے کی طرح اب ایران پر دباؤ کی نئی کوشش
مجوزہ نکات درج ذیل ہیں:
- ایران اپنی سرزمین پر تین سال تک ہر قسم کی یورینیم افزودگی روک دے گا
- تین سال بعد ایران افزودگی کو 1.5 فیصد تک محدود رکھے گا
- ایران کے پاس موجود 60 فیصد افزودہ یورینیم کا 440 کلوگرام ذخیرہ کسی تیسرے ملک کو منتقل کر دیا جائے گا
- ایران خطے میں غیر ریاستی گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے گا (اشارہ حماس، حزب اللہ، عراقی گروہوں اور انصار اللہ کی طرف ہے)
- ایران غیر ریاستی عناصر کو ٹیکنالوجی منتقل کرنا بھی روک دے گا
- ایران بیلسٹک میزائل استعمال نہ کرنے کا عہد کرے گا
- امریکا اور ایران کے درمیان عدم جارحیت (Non-Aggression) کا معاہدہ دستخط کیا جائے گا
یہ تجویز حماس-اسرائیل کے حالیہ 20 نکاتی جنگ بندی معاہدے کی طرز پر تیار کی گئی ہے جس میں ترکی، مصر اور قطر نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ معاہدہ ایران کے لیے یکطرفہ دباؤ کا حامل ہے اور مزاحمتی محاذ کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔







