نیتن یاہو کی بقا کے لیے ایران پر حملہ ضروری، ٹرمپ آخری موقع ہے، اسرائیلی تجزیہ کاروں کا اعتراف
شیعیت نیوز: اسرائیلی تجزیہ کاروں اور فیصلہ سازوں کا اندازہ ہے کہ آئندہ سال اسرائیل میں ہونے والے فیصلہ کن انتخابات میں نیتن یاہو کی سیاسی بقا خطرے میں ہے اور معمول کی صورتحال میں وہ کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ اس لیے انہیں کوئی بڑی کامیابی (جیسے ایران پر حملہ) حاصل کرنا ضروری ہے۔
ان کا خیال ہے کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران تیزی سے اپنی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ جتنا وقت گزرے گا ایران اتنے ہی زیادہ جدید میزائل تیار کرے گا اور اپنی جنگی تنظیم میں نئے سازوسامان شامل کرے گا۔
اسی دوران اسلامی جمہوریہ ایران کا ایٹمی پروگرام بھی آگے بڑھ رہا ہے، جو اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر امریکہ نے جنگ شروع کی تو یہ علاقائی جنگ ہوگی، رہبر معظم انقلاب
نیتن یاہو کا ماننا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے لیے ٹرمپ سے بہتر کوئی صدر نہیں ہو سکتا اور آئندہ بھی ان جیسا کوئی نہیں آئے گا۔ اس لیے اپنی تاریخی خواہشات (ایران کو کمزور کرنا) انہی کے ذریعے پوری کی جانی چاہییں۔
اسرائیلی فیصلہ سازوں کے نزدیک اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں عوام کے ایک حصے اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والا فاصلہ اور معاشی حالات سے عوامی نارضگی، امریکہ اور اسرائیل کے لیے بہترین موقع ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا معاملہ ہمیشہ کے لیے نمٹا دیا جائے۔
نوٹ: اوپر بیان کردہ نکات محض اسرائیلیوں کی خواہشات اور ان کے غلط اندازوں کی عکاسی کرتے ہیں؛ زمینی حقائق ان کے تجزیے سے مختلف ہیں۔







