بورڈ آف پیس ایک نیا فریب ہے، ظلم کا خاتمہ ضرور ہوگا، علامہ سید ساجد علی نقوی

27 جنوری, 2026 10:15

شیعیت نیوز: علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہولوکاسٹ متاثرین کے یوم (27 جنوری) پر جاری اپنے تفصیلی پیغام میں سامراجی اور صہیونی دہشتگردی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں نازیوں کا غیر انسانی رویہ بھی اس ظلم کے سامنے ہیچ ہو چکا ہے جو آج غزہ، لبنان، شام، بیت المقدس، مغربی کنارہ اور خان یونس میں ڈھایا جا رہا ہے۔

علامہ نقوی نے کہا: "ہولوکاسٹ کہیں تاریخ کے صفحات میں بعض اعتراضات کے باوجود قبیح فعل مگر آج کا غزہ، لبنان، شام تو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ عالمی امن پر نہ صرف زوردار تھپڑ ہے بلکہ اب بورڈ آف پیس کے نام پر ایک نئے کھیل کا آغاز ہو رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ہولوکاسٹ کا تذکرہ تو صرف دستاویزی شکل میں خال خال ملتا ہے مگر غزہ، بیت المقدس، مغربی کنارہ، خان یونس، شام اور لبنان میں ہونے والی بربادی اور تباہی دنیا نے اپنی نظروں سے دیکھی۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس، تاریخی غزہ ملین مارچ اور لاکھوں شہیدوں کی لاشیں اس کی گواہی دے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اگلے سال ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کا جنرل اجلاس میزبانی کرے گا، 44 ممالک کے وفود شریک ہوں گے

علامہ سید ساجد علی نقوی نے اصول بیان کرتے ہوئے کہا: "اولین اصول یہی ہے کہ ظلم جہاں پر بھی ہو وہ ظلم ہی ہے۔ نازیوں کا رویہ غیر انسانی تھا مگر ہولوکاسٹ کی بنیاد پر بھی سوالات و اعتراضات اٹھے، بعض حوالوں سے اسے سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ بھی قرار دیا گیا۔ مگر اس کے باوجود اس وقت سے نہ ان اقدامات کی مذمت ہوئی بلکہ آج تک عالمی سطح پر اس معاملے پر منفی تذکرے تک پر پابندیاں ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف سامراجیت اور صہیونیت نے جو قیامت غزہ، مغربی کنارے، خان یونس، بیت المقدس اور پڑوسی ممالک شام و لبنان پر ڈھائی، جو حیوانیت، درندگی اور شیطانیت ظاہر کی، اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

علامہ نقوی نے زور دیا کہ ہولوکاسٹ تاریخ ایک ایسا تذکرہ ہے جس پر اعتراضات موجود ہیں مگر ارض فلسطین پر جو ظلم ڈھائے گئے وہ سب عالمی دنیا کی نظروں کے سامنے ہوا۔ ہولوکاسٹ بارے تاریخی شواہد مٹائے گئے یا خفیہ آپریشن ہوئے مگر غزہ سے بیروت اور بیت المقدس سے دمشق تک سارے مظالم دن کی روشنی میں ہوئے۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں کی لاشیں، بھوک و پیاس، بے سائباں انسان اور ہر طرف پھیلی تباہی و کھنڈرات سامراجی و صہیونی دہشتگردی کی واضح مثال اور کبھی نہ مٹنے والے ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے مظالم پر جس طرح عالمی سطح پر انسانیت نے آواز بلند کی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے مگر افسوس اقوام عالم کے حکمرانوں کے ضمیر مردہ یا مفاد کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسے اداروں سمیت طاقتور ممالک نے مفادات کی خاطر مجرمانہ خاموشی اختیار کی تو آج "بورڈ آف پیس” کے نام پر ایک نئے فریب کا آغاز ہو رہا ہے۔ مگر وہ وقت دور نہیں جب دنیا سے ہر ظلم کا خاتمہ ہوگا اور ہر ظالم کو حساب دینا پڑے گا۔

11:18 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top