پاکستان کے غیور عوام نے ٹرمپ کے نام نہاد امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے،علامہ حیات عباس نجفی
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنما علامہ حیات عباس نجفی نے کہا ہے کہ ملکی عوام نے فلسطین کی نام نہاد امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے، موجودہ حکومت کا فیصلہ قومی خودمختاری، اصولی مؤقف اور مظلوم فلسطینی عوام کی جدوجہد سے کھلی غداری ہے، امن بورڈ دراصل عالمی طاقتوں کا مسلط کردہ ایک نمائشی فورم ہے جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کو انصاف کے بجائے سامراجی مفادات کے تحت دبانا ہے، سرزمین فلسطین کے اندرونی و بیرونی فیصلے ان کی عوامی امنگوں کے مطابق ناہونا ایک بڑی سازش ہے، ایسے کسی فورم میں شمولیت نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ امت مسلمہ کے جذبات اور فلسطینی عوام کی قربانیوں کی توہین بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت، مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود عالمی طاقتیں ظالم کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مظلوم کو دبانے کے منصوبے بناتی رہی ہیں، ابراہیم اکارڈ معاہدہ و نام نہاد امن بورڈ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے فلسطینی کاز کو کمزور اور اسرائیلی جرائم کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، ایسے میں اس فورم میں شمولیت کا مطلب ظلم کے نظام کو تقویت دینا اور مظلوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سربراہ جماعت اہلِ حرم پاکستان اورمرکزی رہنماملی یکجہتی کونسل پاکستان مفتی گلزار احمد نعیمی کا جامع مسجد امامیہ سکردوکا دورہ
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی امن کبھی بھی جبر، قبضے اور ناانصافی کے سائے میں قائم نہیں ہو سکتا، امریکہ و اسرائیل خطہ میں انسانیت کے قاتل ہیں ایسے میں امن کے نام پر بنائے گئے یہ مصنوعی ادارے دراصل صہیونی مفادات کے محافظ ہیں، جن کا مقصد فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے دستبردار کروانا ہے، اگر عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے تو اسے جعلی ریاست اسرائیلی قبضے کے خاتمے، فلسطینی ریاست کے قیام اور جنگی جرائم میں ملوث صہیونیوں کے خلاف عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس نام نہاد امن بورڈ سے علیحدگی کا اعلان کرے اور مسئلہ فلسطین پر بانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے، پاکستان اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ہر اس سازش کو ناکام بنائیں جو ان کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہے، ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ایسے فیصلے واپس نہ لیے گئے تو عوامی سطح پر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔







