اسرائیلی فوجی کا گھٹیا کھیل بے نقاب: فلسطینی قیدی کے اغوا کا جھوٹا ڈرامہ رچایا، خاندان سے تاوان مانگا گیا
شیعیت نیوز : اسرائیلی فوج نے اپنے ایک اہلکار کے خلاف اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس پر الزام ہے کہ اس نے ایک فلسطینی قیدی کے اغوا کی جھوٹی کہانی بنا کر اس کے خاندان سے پیسے بٹورنے کی کوشش کی۔
یہ فوجی، جو ملٹری پولیس یونٹ میں جیل کے محافظ کے طور پر کام کرتا ہے، اس وقت گرفتار کیا گیا جب فلسطینی خاندان نے اسرائیلی پولیس کو اطلاع دی کہ ان کے رشتہ دار کے اغوا کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور اس کی رہائی کے بدلے تاوان مانگا جا رہا ہے۔ یہ بات اتوار کے روز اسرائیلی آرمی ریڈیو نے بتائی۔
رپورٹ کے مطابق، فوجی نے نوجوان فلسطینی قیدی کی تصویر کھینچی اور اس کے خاندان کو بھیجی، اور جھوٹا دعویٰ کیا کہ اس نے اسے اغوا کر لیا ہے، ساتھ ہی رقم کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ فلسطینی نوجوان بغیر اجازت مقبوضہ علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور اسے مغربی کنارے میں گوش عتصیون نامی بستی کے قریب ایک فوجی حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا۔ مبینہ طور پر وہیں اغوا کی جھوٹی کہانی بنائی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا: “ملٹری پولیس یونٹ کے اس فوجی نے فلسطینی خاندان سے پیسے لینے کے لیے اغوا کا ڈرامہ رچایا۔”
ابتدا میں اسرائیلی حکام کو لگا کہ یہ واقعہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ماحول کو تباہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ وہ ہتھیار ہیں جو امریکہ تیار کرتا ہے، سپاہ پاسداران انقلاب
لیکن بعد میں تحقیقات کے دوران قیدی کے فون سے معلوم ہوا کہ وہ اب بھی اسرائیلی حراست میں ہے، جس کے بعد تفتیش کا رخ اس فوجی کی طرف ہو گیا۔
ملزم سے اس وقت تفتیش جاری ہے اور فوج کے اندرونی تحقیقاتی شعبے نے باضابطہ انکوائری شروع کر دی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے تشدد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں اسرائیل کی نسل کش جنگ شروع ہونے کے بعد، اسرائیلی فوج اور آبادکاروں نے مغربی کنارے اور مقبوضہ القدس میں حملے تیز کر دیے۔ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ہزاروں چھاپے، اجتماعی گرفتاریاں، گھروں کی مسماری اور آبادکاروں کے حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
صرف 2025 میں ہی اسرائیلی آبادکاروں نے مغربی کنارے میں 4,700 سے زائد حملے کیے، جن کے نتیجے میں اموات، زخمی ہونے کے واقعات اور پورے کے پورے بدوی (Bedouin) خاندانوں کی جبری نقل مکانی ہوئی۔
جس فلسطینی قیدی کو تاوان کے لیے نشانہ بنایا گیا، وہ ان 9 ہزار سے زائد فلسطینیوں میں شامل ہے جو اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بی تسلیم (B’Tselem) کی ایک حالیہ رپورٹ میں فلسطینی قیدیوں پر شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بی تسلیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر یولی نوواک نے کہا: “اسرائیلی حکومت نے اپنی جیلوں کو فلسطینیوں کے لیے تشدد کے کیمپوں میں تبدیل کر دیا ہے، جو فلسطینی معاشرے کو اجتماعی طور پر تباہ کرنے کی منظم پالیسی کا حصہ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “غزہ میں نسل کشی اور مغربی کنارے میں نسلی صفائی اس پالیسی کی سب سے واضح مثالیں ہیں۔”
فلسطینی ذرائع کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حراست میں 100 سے زائد فلسطینی قیدی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ غزہ کے کئی قیدی اب بھی لاپتہ کیے جانے (enforced disappearance) کا شکار ہیں۔







