افغانستان میں زمانہ جاہلیت دوبارہ زندہ، 9 سال کی بچی کو مکمل عورت تصور کیا جائے گا

25 جنوری, 2026 11:23

شیعیت نیوز : افغانستان میں زمانۂ جاہلیت دوبارہ زندہ ہو گیا ہے، افغانستان میں نیا قانون نافذ کیا گیا ہے جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

خبر کے مطابق 9 سال کی بچی کو مکمل عورت تصور کیا جائے گا اور جس کا دل کرے نکاح کر سکتا ہے۔

عورتوں کے پردے کے لیے گھروں میں روشندان اور کھڑکیاں مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی امیر شخص غلام اور عورتوں کی خرید و فروخت کر سکتا ہے اور غلام رکھنے کی بھی مکمل اجازت ہو گی۔

طالبان ایک مخصوص فرقہ و مذہب کا حامل ہے، جس کے علاوہ کوئی بھی سنی ہو یا شیعہ، کسی بھی مسلک سے ہو، اپنے فرقہ مذہب کے متعلق تبلیغ نہیں کر سکتا، اور دیگر مسالک کو مشرک قرار دیا گیا ہے۔

افغانستان میں لونڈے اور لونڈیاں رکھنے کا رواج پہلے سے موجود تھا، جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں قومِ لوط کی بیماری پائی جاتی ہے، جسے اب قانونی تحفظ کے ساتھ نافذ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی میں پولیس مقابلہ، کالعدم سپاہِ صحابہ سے تعلق رکھنے والا انتہائی مطلوب دہشتگرد بھتہ خور جہنم واصل

خبر میں مزید موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انڈیا میں ذات پات کے نظام میں اونچی اور نیچی جاتیوں کی اہمیت پائی جاتی ہے، اور مسلمانوں کے خلاف اکثریتی ہندو مذہبی پارٹی مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، ممکن ہے کہ طالبان بھی انہی سے متاثر ہوئے ہوں۔

1:05 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top