یمن میں ملعون سعودی اور اماراتی گروہوں کے درمیان جھڑپیں اور لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی
شیعیت نیوز : عرب امارات نواز گروہ جنوبی عبوری کونسل اور سعودی نواز خود ساختہ حکومت کے درمیان میدانی جھڑپوں میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ ان کے قائدین کے درمیان سیاسی اور لفظی جنگ بھی بڑھ گئی ہے۔
حال ہی میں یمن کی خود ساختہ حکومت کے نائب وزیر خارجہ مصطفیٰ النعمان نے ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور جنوبی علیحدگی پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انصار اللہ فورسز کے ساتھ اتحاد پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔
ان بیانات پر جنوبی عبوری کونسل کے سرکاری ترجمان انور التمیمی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ النعمان اب انصار اللہ کے ساتھ اتحاد کی باتیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی حلب میں قسد اور جولانی گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں، علاقے میں کشیدگی عروج پر
التمیمی نے دعویٰ کیا کہ یمن میں ایرانی منصوبے کے خلاف جاری فیصلہ کن جنگ کے اصولوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، یہ بیانات نہ صرف جنوبی یمن کے باشندوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ سعودی اتحاد کے لیے بھی چیلنج ہیں، کیونکہ یہ اتحاد انصار اللہ کے خلاف ہی تشکیل دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے حامیوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مشرقی اور جنوبی یمن میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں کا دائرہ وسیع کیا ہے، جس پر سعودی نواز حکومت اور سعودی عرب کے حامی گروہوں نے شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل بھی امارات اور سعودی عرب اپنے اپنے حامیوں کی مدد کے لیے اس کشمکش میں براہِ راست مداخلت کر چکے ہیں۔
ملعون متحدہ عرب امارات اور ملعون سعودی عرب کو اسرائیل کے خلاف تو ایک لفظ کہنے کی جرات نہیں اور مسلمان ممالک میں انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔







