ایرانی فوج کی خامیوں کو دور کرنے میں نمایاں پیش رفت، 12 روزہ جنگ کے تجربات کو دستاویزی شکل دے دی گئی
شیعیت نیوز: ایرانی فوج کے ڈپٹی چیف برائے انتظامی امور بریگیڈیئر جنرل علیرضا شیخ نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج گزشتہ عسکری کارروائیوں سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر اپنی آپریشنل اور تکنیکی خامیوں کو تیزی سے دور کر رہی ہیں، اور اس عمل میں نمایاں پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران سامنے آنے والی کمزوریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا گیا اور انہیں دور کرنا فوری ترجیح دی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق جنگ کے تیسرے ہی دن سے ٹیکنالوجی سے متعلق بعض خلا کو پر کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا، جن کی وجہ سے وقتی طور پر طاقت کے توازن میں تبدیلی آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی بحریہ نے ایرانی شاہد-136 کا کاپی امریکی ورژن LUCAS ڈرون جہاز سے کامیابی سے لانچ کر لیا
انہوں نے 12 روزہ جنگ کے دوران رہبر انقلاب اسلامی کے کردار کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کی کمان میں عقلانیت اور تخلیقی طرز قیادت نے دشمن کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔
بروقت فیصلے اور جدت پر مبنی قیادت مستقبل میں برسوں تک فوجی تربیتی ورکشاپس اور اسٹریٹجک تعلیمی مراکز میں زیر مطالعہ رہے گی۔
بریگیڈیئر جنرل شیخ کے مطابق اس جنگ کے بعد ایرانی فوج کے چاروں شعبوں کے درمیان ہتھیاروں، ساز و سامان اور افرادی قوت کے مربوط استعمال کے ذریعے ایک قابل اعتماد دفاعی صلاحیت قائم کی گئی ہے، جو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 12 روزہ جنگ سے حاصل ہونے والے تمام اسباق کو باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دے دی گئی ہے اور انہیں فوجی و تعلیمی اداروں میں رہنما کتابچوں، تربیتی مواد اور کیس اسٹڈیز کی صورت میں شامل کیا گیا ہے، تاکہ انہیں حربی حکمت عملی، دفاعی تدابیر اور اسٹریٹجک مقابلے کی تعلیم میں استعمال کیا جا سکے۔







