حضرت ابو طالبؑ کے ایمان پر شک رکھنے والا شیعہ نہیں ہو سکتا، آیت اللہ ریاض حسین نجفی
شیعیت نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع مسجد علی حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے اپنی کتاب "قرآن، قرآن کی نظر میں” میں حضرت ابو طالبؑ کے ایمان کے بارے میں چھپی ایک اشتباہ کی وضاحت کی اور کہا کہ یہ کمپوزر کی غلطی تھی، شیعہ حضرت ابو طالبؑ کے ایمان پر شک نہیں کر سکتا۔
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ کتاب کی پروف ریڈنگ فاضلینِ درسِ خارج نے کی تھی، ان سے بھی سہواً یہ غلطی رہ گئی، لیکن میں کسی کو قصوروار نہیں ٹھہراتا۔ میری پوری زندگی عوام کے سامنے ہے، حضرت ابو طالبؑ کے ایمان پر شک رکھنے والا شیعہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ دینِ اسلام کو چلانے والے حضرت ابو طالبؑ اور دین کی حفاظت کرنے والے اولادِ ابو طالبؑ ہیں۔ آج جو دین موجود ہے، وہ حضرت ابو طالبؑ کی محنت اور ان کی اولاد کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خطے میں عدم استحکام اور مشکلات کی جڑ اسرائیل ہے، نہ کہ ایران، سابق سعودی انٹیلیجنس چیف
ان کا کہنا تھا کہ حضرت عبد المطلبؑ کے بعد حضرت ابو طالبؑ نے صرف آٹھ سال کی عمر میں رسول اللہؐ کی تربیت اپنے ذمہ لی، اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ حضورؐ کی فکر کرتے تھے۔ سب سے پہلی نعت پڑھنے والے حضرت ابو طالبؑ ہی ہیں، دیوانِ ابو طالبؑ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔
آیت اللہ نجفی نے ناصبی گروہ کے اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت ابو طالبؑ کی واحد خامی یہ ہے کہ وہ امیر المومنین حضرت علیؑ کے والد ہیں، اسی لیے ناصبیوں نے انہیں کافر قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ حضور پاکؐ نے حضرت ابو طالبؑ کو دفن کرنے کے بعد فرمایا: میری طرف سے بھی اور اللہ کی طرف سے بھی انہیں جزا نصیب ہو۔







