ایران سفارت کاری سے کبھی فرار نہیں ہوا، اسرائیل نے مذاکرات کو جنگ سے توڑ دیا، وزیر خارجہ ایران
شیعیت نیوز: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی سفارت کاری سے فرار اختیار نہیں کیا، اگرچہ امریکہ نے بالواسطہ مذاکرات کے عمل میں بارہا تعطل پیدا کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عراقچی نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں اعلیٰ سطحی ثالثی اجلاس کے بعد عرب چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکی فریق باہمی مفادات پر مبنی اور منصفانہ معاہدے کے لیے آمادگی دکھائے تو ایران اس پر ضرور غور کرے گا۔ ہم کبھی مذاکراتی میز چھوڑ کر نہیں گئے، کیونکہ سفارت کاری ہمارے اصولی طریقہ کار کا لازمی حصہ ہے۔
عمان کی ثالثی اور امریکی انکار انہوں نے بتایا کہ رواں سال عمان کی ثالثی میں ہونے والے پانچ دور کے بالواسطہ مذاکرات سے دونوں فریقین کو معاہدے کے بہت قریب آ گئے تھے، لیکن واشنگٹن نے تجاویز کو مسترد کرکے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا۔ امریکہ نے صفر افزودگی کی شرط عائد کی، جو ایران کے لیے ناقابل قبول تھی۔
اسرائیلی–امریکی جارحیت: سفارت کاری پر براہ راست حملہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ہی ایران پر جارحیت کی جو دراصل ایران کے ساتھ ساتھ سفارت کاری اور عمان کے ثالثی کردار پر بھی حملہ تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 13 جون کو اسرائیل نے بلا جواز ایران پر جنگ مسلط کی، جس میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدان اور عام شہری شہید ہوئے۔ بعد ازاں امریکہ نے بھی تین ایرانی جوہری مقامات کو نشانہ بنایا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قوانین اور این پی ٹی کی سنگین خلاف ورزی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطینیوں کی استقامت قرآن کی طاقت ہے، ہماری تباہی قرآن سے دوری ہے، آیت اللہ سید ریاض حسین نجفی
12 روزہ جنگ: ایران کی عسکری صلاحیت کی آزمائش عراقچی نے کہا کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی لیکن مزید مضبوط ہو کر نکلا۔ ہم نے اپنے میزائل سسٹمز کو حقیقی جنگ میں آزمایا اور دونوں فریقین کی کمزوریاں واضح طور پر شناخت ہوئیں۔
صہیونی حکومت سے مذاکرات کا امکان مسترد جب پوچھا گیا کہ کیا تہران اور تل ابیب کے درمیان کبھی براہ راست بات چیت ممکن ہے؟ عراقچی نے واضح جواب دیا کہ ایران صہیونی حکومت کی کوئی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کرتا۔ یہ حکومت خطے سے تعلق ہی نہیں رکھتی، اسے فلسطینی سرزمین پر قبضے اور قتل و غارت کے ذریعے قائم کیا گیا اور یہ آج بھی نسل کشی پر منحصر ہے۔
مزاحمتی محاذ کی حمایت عراقچی نے خطے کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران حزب اللہ لبنان، انصار اللہ یمن اور فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب خودمختار فریق ہیں، اور ایران انہیں اس لیے سپورٹ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی سرزمین کی آزادی اور جائز، مقدس مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں۔
شام میں اسرائیلی منصوبے—خطے کے استحکام کے لیے خطرہ شام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نئی شامی حکومت کے ساتھ ایران کے رسمی تعلقات ابھی قائم نہیں ہوئے، لیکن ایران حالات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل شام میں مزید قبضے اور ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جو خطے کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
ایران–سعودی تعلقات میں پیش رفت اور خطے کی خودمختار سلامتی عراقچی نے بیجنگ کی ثالثی سے ہونے والی تہران–ریاض مفاہمت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے باقاعدگی سے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کیے بغیر باہمی اعتماد اور تعاون سے خطے میں پائیدار امن قائم کر سکتے ہیں۔ یہی بڑھتا ہوا اعتماد مستقبل میں خلیج فارس میں مشترکہ سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔







