ٹی ٹی پی نے ملا ہبۃ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے، پروفیسر ابراہیم کا انکشاف
شیعیت نیوز: امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا (جنوبی) پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی نہ صرف پاکستان بلکہ امارت اسلامی افغانستان کے لیے بھی بہت بڑا مسئلہ اور خطرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ظاہری طور پر تو ٹی ٹی پی نے امیر المومنین ملا ہبۃ اللہ اخوندزادہ دام مجده کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے مگر عملاً وہ ان کے ہر فرمان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ جہاد کے لیے وحدتِ امامت شرطِ لازم ہے، لیکن یہ گروہ مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ امیر المؤمنین کا واضح فرمان ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف مسلح کارروائی کے لیے استعمال نہ کی جائے اور افغانستان سے باہر بھی کوئی مسلح کارروائی نہ کی جائے۔ ٹی ٹی پی پر اس حکم کی تعمیل شرعاً ضروری ہے۔
صوبائی دفتر بنوں سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے سب سے ضروری ہے کہ اندرونی سیکیورٹی کی پوری ذمہ داری فوج سے واپس لے کر پولیس کے حوالے کی جائے اور پولیس کو جدید اسلحہ، گاڑیاں اور بھرپور وسائل فراہم کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی مسلح افواج کا آسٹریلیا پر تنقید: IRGC کو دہشت گرد قرار دینا امریکی استعمار کی سازش
انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر کی مکمل بندش نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام بالخصوص بارڈر کے قریب رہنے والے قبائل کی معیشت اور امن و امان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
آخر میں پروفیسر محمد ابراہیم خان نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار خواجہ آصف کی زبان استعمال کرنے سے گریز کریں، بھارت کے خلاف فتح پر اللہ کا شکر ادا کریں مگر اسے افغانستان کو دھمکیاں دینے کا ذریعہ نہ بنائیں۔







