قرآن حفظ کرنے سے زندگی کو نیا زاویہ ملتا ہے، ایرانی صدر
شیعت نیوز: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کاشمر میں منعقدہ "ترنمِ وحی” عظیم قرآنی اجتماع کے لیے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یہ بابرکت محفل اہلِ قرآن کی تکریم اور قرآنِ کریم کی عظیم رسالت پر ازسرِنو غور و فکر کا موقع ہے۔ صدر کا تحریری پیغام وزیرِ ثقافت سید عباس صالحی نے تقریب میں پڑھ کر سنایا۔
صدر پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ قرآن صرف قرائت کی کتاب نہیں بلکہ تدبر، حکمت اور زندگی کے رویّوں کو نورانی بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر قرآن کی حقیقی رسالت ادا کی جائے تو فردی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں مستحکم ہو سکتی ہیں اور سرزمینِ ایران کا مستقبل روشن تر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے حاملان، قرّاء اور مربیانِ قرآن کو معاشرتی تبدیلی کے اس عمل میں کلیدی کردار کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کا نور صرف کتاب کے اوراق تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی زندگی میں نظر آنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ احمد اقبال رضوی کی بہارہ کہو میں مؤمنین سے اہم ملاقات، قومی و سیاسی امور پر تفصیلی گفتگو
صدر پزشکیان نے اس عظیم الشان اجتماع کو حافظانِ قرآن، اساتذہ اور خدامِ قرآن کے عزم و اخلاص کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع صرف تلاوت اور تجلیل کا نہیں بلکہ قرآن کی حقیقی قوت کو معاشرتی زندگی میں نافذ کرنے کا پیغام دے رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی کئی بار قرآن سے انس، تدبر اور معاشرتی زندگی میں اس کی تعلیمات کے عملی نفوذ پر زور دیتے رہے ہیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر صدر نے امید ظاہر کی کہ یہ محفلِ ترنمِ وحی معاشرے میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو—ایسا باب جس میں قرآن محض آواز نہ رہے بلکہ عمل، فیصلہ سازی اور معاشرتی ڈھانچے کی قوت بن جائے، تاکہ نورِ وحی پورے معاشرے میں گونجے اور ایک قرآنی، عادلانہ اور معنویت پر مبنی معاشرہ تشکیل پا سکے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسے ایس ای او کے مطابق فارمیٹ، ٹیگز، سرخی اور سب ٹائٹل کے ساتھ اسی طریقے پر تیار کر دوں جیسا آپ پچھلی خبروں کے لیے کہہ رہے تھے۔







