صحبتِ نیک کا اثر نصیحت سے بڑھ کر ہوتا ہے، آیت اللہ مہدوی

18 نومبر, 2025 19:40

شیعیت نیوز : آیت اللہ سید ابوالحسن مہدوی نے گزشتہ شب اصفہان میں نہج البلاغہ کی حکمت 285 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی نگاہ میں انسان کی فکری اور اخلاقی سلامتی کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ احمق اور کم‌ فہم افراد کی صحبت سے دور رہے۔

انہوں نے کہا کہ امام علی علیہ‌السلام ایسے شخص کی دو اہم نشانیاں بیان فرماتے ہیں: پہلی یہ کہ وہ غلط اور نادرست عمل کو خوبصورت اور صحیح سمجھ کر پیش کرتا ہے، اور دوسری یہ کہ وہ دوسروں کو بھی اسی انحراف کی طرف دعوت دیتا ہے۔ آیت اللہ مہدوی کے مطابق یہی طرزِ عمل دوسروں کی لغزش اور گمراہی کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کا سخت انتباہ: اشتعال انگیزی کا جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا

انہوں نے مزید کہا کہ دینی تعلیمات میں صالح رفاقت و دوستی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ روایات میں عالمانِ ربانی، صاحبانِ عقل، اہلِ خیر، پرہیزگار، اہلِ حکمت اور اہلِ فضیلت کو بہترین ساتھی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان کی صحبت انسان کے فکر و شعور کو مضبوط کرتی اور روحانی رشد کا باعث بنتی ہے۔

آیت اللہ مہدوی کا کہنا تھا کہ دوستوں کا طرزِ عمل انسان کے اخلاق و فکر پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی اصلاح کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انہیں نیک، دیندار اور باعمل رفقا کی صحبت فراہم کی جائے، کیونکہ اکثر اوقات رفیقِ صالح کا عملی اثر نصیحت سے بھی زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

انہوں نے قبرستان گلستانِ شہداء (اصفہان) جیسے معنوی مقامات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ مقدس مقام اُن مجاہدین کی یاد دلاتا ہے جن کی برکت سے اصفہان نے اسلام کی راہ میں 24 ہزار شہدا پیش کیے، جن میں سے آٹھ ہزار سے زیادہ شہدا اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔

12:38 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top