سائنس اگر خیر کے ہاتھ میں ہو تو امن، اور شر کے ہاتھ میں ہو تو تباہی ہے، علامہ ساجد علی نقوی

10 نومبر, 2025 14:33

شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے 10 نومبر، سائنس برائے امن و ترقی کے عالمی دن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: سائنس کی مثال اس نشتر (آپریشن وغیرہ کے لئے استعمال ہونے والا چاقو) جیسی ہے جو اگر ایک ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہو تو خیر ہی خیر اور اگر ڈاکو کے ہاتھ میں دیا جائے تو شر ہی شر پھیلے گا۔

انہوں نے مزید کہا: آج دنیا کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے، افسوس جس علم کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال میں لایا جانا چاہیے تھا اسے فلاحِ انسانیت کے بجائے قبیح فعل (انسانیت کی تباہی) کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، موجودہ دنیا میں سامراج اور اس کا چیلہ صیہونی قاتل ہے، جسے کھلا دشمن قرار دیا گیا ہے جن سے کبھی خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں :

علامہ ساجد نقوی نے کہا: اس میں کوئی شک نہیں کہ علمِ سائنس نے انسان کو مزید آگے بڑھنے، کائنات کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے اور انسانی زندگی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اس کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے مگر دوسری طرف اسی سائنسی علم کو سامراجی قوتوں نے انسانیت کی بربادی کے لیے بھی بے دریغ استعمال کیا جس کی سب سے بڑی اور بدترین مثال ماضی میں ہیروشیما ناگاساکی تھے تو آج غزہ اس کی تجربہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: سائنس کی مثال اس نشتر جیسی ہے اگر ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہو تو امن و سلامتی اور ڈاکو کے ہاتھ میں ہو تو ظلم و بربادی ہوگی۔ افسوس آج دنیا سائنس برائے امن و ترقی ایسے وقت میں منا رہی ہے جب غزہ پر بموں کی سیاہ برسات گزری، انسانیت سسک سسک کر مرتی رہی اور اب اس سامراج کی آشیر باد سے امداد تک مظلوموں تک نہیں پہنچ پا رہی اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے اب بچے کچھے انسانوں کے بھی درپے ہیں مگر افسوس نام نہاد مسلط کردہ امن معاہدے پر بہت ڈھول پیٹے گئے مگر عملاً ظلم کی سیاہ رات آج بھی طاری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہر سال 10 نومبر کو دنیا بھر میں "سائنس کا عالمی دن برائے امن و ترقی” (World Science Day For Peace and Development) منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد معاشروں میں سائنسی شعور بیدار کرنا، تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس امر کو تسلیم کرنا ہے کہ علم و سائنس ہی پائیدار ترقی اور عالمی امن کی بنیاد ہیں۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ اجاگر کرنا بھی ہے کہ سائنس صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی، معاشی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار امن کے قیام میں بھی اس کا کردار نہایت بنیادی ہے۔ اس دن کو منانے کی تجویز اقوامِ متحدہ کے تعلیمی و ثقافتی ادارے یونیسکو نے دی تھی اور پہلی بار یہ دن 2002ء میں باضابطہ طور پر منایا گیا۔

1:05 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top