آئین کو متنازعہ بنانا دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوری اساس پر حملہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور صوبہ سندھ کے آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئین پاکستان وہ متفقہ اور قابل احترام دستاویز ہے جس پر ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اتفاق رائے ہے۔ آئین کو متنازعہ بنانا دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوری اساس پر حملہ ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم ایسے کسی فیصلے کو قبول نہیں کرے گی جو ذاتی مفادات کے تحفظ، شخصی آمریت کو طول دینے یا عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کے لیے کیا جائے۔ ایسے اقدامات نہ صرف جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ملک کے آئینی و اخلاقی تشخص کے بھی منافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ اقبالؒ کا پاکستان آج آئینی و عدالتی انحطاط کا شکار ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر پوری قوم کو اس کالے قانون کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے کارکنان اور ملک کی تمام سیاسی و عوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے تحفظ کے لیے میدان میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اندھیرے میں رکھ کر فارم 47 کے جعلی حکمران اپنے چہروں پر خود کالک مل رہے ہیں، اور یہ رسوائی ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ جنہوں نے کبھی "ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا تھا، آج وہی عوام کی رائے اور جمہوریت سے خوفزدہ ہیں اور جمہوری نظام پر وار کر رہے ہیں۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ گزشتہ پچاس برسوں سے پیپلز پارٹی یہ کریڈٹ لیتی آئی ہے کہ اس نے قوم کو متفقہ آئین دیا، مگر افسوس آج وہی جماعت آئین پر حملہ آور ہے اور اس کی روح کو مسخ کر رہی ہے۔







