امریکہ سے اختلافات حکمتِ عملی کے نہیں، بلکہ بنیادی نوعیت کے ہیں، رہبر معظم

03 نومبر, 2025 12:30

شیعیت نیوز: سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کی مناسبت سے ملک کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں اسٹوڈنٹس نے پیر 3 نومبر 2025 کی صبح حسینیۂ امام خمینیؒ میں رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

اس موقع پر رہبر انقلاب نے 13 آبان 1358 (4 نومبر 1979ء) کو امریکہ کے سفارت خانے پر قبضے کے دن کو افتخار و کامیابی اور امریکہ کی استکباری حکومت کی حقیقی شناخت کے انکشاف کا دن قرار دیا۔
انہوں نے فرمایا کہ وہ سفارتخانہ انقلابِ اسلامی کے خلاف سازشوں اور منصوبہ بندیوں کا مرکز تھا۔

یہ بھی پڑھیں: استنبول میں غزہ امن منصوبے پر مشاورتی اجلاس آج ہوگا، پاکستان سمیت 8 ممالک کی شرکت

رہبر انقلاب نے کہا کہ یہ دن ایران کی قومی حافظے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہنا چاہیے، کیونکہ یہ دن استکبار کے مقابلے میں ملت ایران کی غیرت اور بصیرت کا مظہر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کا اختلاف بنیادی اور فطری نوعیت کا ہے، کیونکہ یہ دو مختلف نظاموں اور مفادات کے درمیان ٹکراؤ ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات تبھی ممکن ہیں جب امریکہ صہیونی حکومت کی مکمل حمایت ختم کرے، خطے سے اپنے فوجی اڈے ہٹا لے اور علاقائی امور میں مداخلت بند کرے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، تو کیا ہمیشہ کے لیے تعلقات بھی نہیں رکھیں گے؟
رہبر انقلاب نے فرمایا:

“امریکہ کی استکباری فطرت صرف تسلیم کے سوا کچھ قبول نہیں کرتی، یہی ان کا ہمیشہ کا رویہ رہا ہے۔ موجودہ امریکی صدر نے تو خود کہہ دیا کہ ایران کو سر جھکانا ہوگا، اس طرح اس نے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا۔”

انہوں نے کہا کہ “کسی قوم کا سر جھکانا، وہ بھی ایران جیسی باشعور، باحمیت اور حوصلہ مند قوم کا، ایک فضول خیال ہے۔ ایران کے پاس عظیم فکری، علمی اور مادی توانائیاں موجود ہیں، اور یہ قوم اپنے اصولوں سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گی۔”

آخر میں نوجوان طلباء نے فلک شگاف نعرے لگائے:
"اللہ اکبر، خامنہ ای رہبر، مردہ باد امریکہ، مردہ باد اسرائیل”

6:05 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top