سعودیہ کے ساتھ پاکستانی معاہدہ اسرائیل کو فائدہ پہنچائے گا، علامہ امین شہیدی

02 اکتوبر, 2025 22:42

شیعیت نیوز : معروف مذہبی اسکالر اور امتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے شیعہ نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ قطر پر اسرائیل کا حملہ ایک خودمختار ملک کی سلامتی پر حملہ ہے اور اس کے ردِ عمل میں خود قطر اور دیگر اسلامی ممالک کو یقینی طور پر سخت ترین ردِ عمل کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے اجتماع میں جو بیانیہ سامنے آیا وہ اس حد تک ذلت آمیز، شکستہ، خوف زدہ اور امریکی پالیسیوں کے زیرِ اثر تھا کہ حملے کی مذمت کے باوجود ان ممالک میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ سیدھا اسرائیل کا نام لے کر کہیں کہ اسرائیل نے غلط کیا ہے۔ ایسے خوف زدہ اور ڈھکی چھپی بیانیوں سے نہ صرف اسرائیل کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ اسے مزید جرأت ملتی ہے۔ ان کے بقول بعض مسلم حکام اور رہنما ایسی حد تک بے غیرتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ انہیں جتنا بھی مارا جائے وہ مزید مار کھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آیت الله سیستانی کی اہلیہ کے انتقال پر وفاق المدارس الشیعہ کے صدر کا اظہار تعزیت

علامہ محمد امین شہیدی نے مزید کہا کہ جو ملک اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد مذمتی بیان میں اسرائیل کا نام لینے سے گریز کرتا ہے، جو ملک دو لاکھ سے زیادہ افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کے باوجود اسرائیل کے خلاف عملی اقدام نہیں اٹھاتا، جو ملک اسرائیل کی بجائے یمن کے خلاف اقدامات کرتا ہے اور حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کرتا ہے، اور جو ملک اپنی توانائیاں لبنان میں اسرائیل کے کردار کو ختم کرنے کے بجائے حزبِ اللہ کی توانائیوں کو نشانہ بنانے اور ان کو کمزور کرنے پر خرچ کرتا ہے — ایسے ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کر کے مل کر اسرائیلی مفادات کے خلاف کوئی مؤثر قدم اٹھائے گا، حقیقتاً ناممکن ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسے حکمران جو فلسطینی عوام کے حق اور مزاحمتی تحریکوں کے تحفظ کی طرف عملی توجہ نہیں دیتے، وہ امتِ مسلمہ کے مفاد میں نہیں سوچ رہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ریاستوں کو چاہیے کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر واضح، اصولی اور عملی موقف اختیار کریں۔

7:16 صبح اپریل 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔