ایرانی مواکب کا حسرت بھرا انتظار: پاکستانی زائرین کے بغیر راہِ کربلا ادھوری رہی
شیعیت نیوز : ہر سال ہزاروں پاکستانی زائرین راہِ کربلا میں ایرانی سرزمین سے گزرتے ہوئے عشقِ حسینیؑ کی سعادت پاتے ہیں۔ یکم صفر سے لے کر اربعین تک، ایرانی مؤمنین پاکستانی بارڈر سے لے کر عراقی بارڈر تک زائرین کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر مواکب لگاتے ہیں، جو زائرین کے لیے سایۂ رحمت بن جاتے ہیں۔
اس سال بھی ایرانی مؤمنین یکم صفر سے 15 صفر تک اپنے مواکب میں آنگنِ دروازے کھولے بیٹھے رہے؛ ہر گزرتی ہوا سے پوچھتے رہے: "کہیں سے کربلا کے مسافر تو نہیں آ رہے؟”
آخر ناامیدی کے سائے چھا گئے تو مواکب کو سمیٹ کر خود کربلا روانہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : آسٹریلین پارلیمنٹ میں مسلسل دوسری بار یومِ حسینؑ، مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی شرکت
انہی سوگوار مواکب میں، ایک شہرِ بم کا "موکب حضرت ابو الفضل العباسؑ” بھی تھا، جہاں کے خادمین کے چہروں پر غمِ فراق کے تاثرات دیکھ کر دل تڑپ اٹھتا ہے۔ اس المناک انتظار کی داستان آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں خاموش چہروں کی ہر تصویر پکارتی ہے: دلوں کے راستے سرحدوں سے نہیں ملتے!







