مسئلہ کشمیر کا حل خطے کے امن کی کنجی ہے: علامہ سید ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز: علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے تصفیے کا حل تلاش کیا جائے، کشمیر کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی، غیور و بہادر کشمیری عوام 1947ء میں ہی الحاقِ پاکستان کی قرارداد کی منظوری کے ساتھ پاکستان کے حق میں فیصلہ سنا چکے ہیں، مقبوضہ علاقے کبھی اٹوٹ انگ نہیں ہوتے، بھارت ہٹ دھرمی چھوڑے اور مظلوم عوام کو استصواب رائے کا حق دے، جنوبی ایشیا کا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے 19 جولائی 1947ء کو سری نگر میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراردادِ الحاق پاکستان پر کشمیری قیادت اور عوام کی رائے کی یاد میں منائے جانے والے یومِ الحاقِ پاکستان پر اپنے پیغام میں کیا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ کسی بھی قوم کو جبر و ظلم کے ساتھ دبایا نہیں جا سکتا، نہ ہی مقبوضہ علاقے کبھی اٹوٹ انگ ہوا کرتے ہیں۔ یہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے جو وہ کر چکے ہیں۔ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے ساتھ ان غیور و بہادر کشمیریوں نے پیلٹ گنز کا بھی بزرگ، خواتین اور بچوں سمیت بلا تفریق سامنا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے رہبر معظم کی توہین کی تو عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے: آیت اللہ محسن اراکی
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھارتی مودی سرکار نے ختم کی لیکن کشمیری اس ظلم و جبر کے آگے زیر نہ ہوئے اور آج بھی وہ یومِ الحاقِ پاکستان کو شد و مد کے ساتھ منا رہے ہیں، جس پر انہیں دادِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے اور بھارتی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کیا جائے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تصفیے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات کو اعتماد میں لیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل مرتب کیا جائے تاکہ کشمیری عوام بھی ظلم و ستم کی تاریک رات کے بعد صبح آزادی دیکھ سکیں۔







